اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 436
436 کوچے میں ، ہر ہوٹل میں Burning Issue کے طور پر یہی موضوع تھا۔اس دن ایک مجلس میں دو چار آدمی بیٹھے ہوئے بات کر رہے تھے۔ایک کہنے لگا یہ خواہ مخواہ ایک شریف آدمی کے اوپر تہمت لگانے والی بات ہے۔بد نام کرنے والی بات ہے۔یہ کوئی سازش معلوم ہوتی ہے۔دوسرے نے کہا، دیکھیں ہوسکتا ہے سازش ہی ہو۔مگر دیکھیں انسان کے دماغ میں خلل آنے کا حادثہ تو سبھی کو ہوسکتا ہے۔ہم مولوی محمد حسین صاحب آزاد کی نظمیں پڑھتے ہیں۔ان کی ”آب حیات اور دوسری کتا ہیں۔وہ اس دور کے ادب کا شاہکار سمجھی جاتی ہیں۔آخر عمر میں پاگل ہو گئے تھے۔بچے ان کو چھیڑتے تھے۔وہ ان کو پتھر مارتے تھے۔حالانکہ بچے نظمیں ان کی پڑھتے تھے۔تو ہوسکتا ہے دماغ خراب ہو گیا ہو۔ایک شخص کہنے لگا اصل طریق تو یہ نہیں ہے کہ خواہ خواہ اس کے اوپر ہم کوئی جرح کریں۔نزدیک ہی تو ان کی کوٹھی ہے۔وہاں جا کر خود ان سے پوچھ لینا چاہئے تاکہ اصل حقیقت ہمارے سامنے آجائے۔دو بھائی تھے۔انہوں نے اس گپ شپ میں کوئی حصہ نہیں لیا۔وہ دونوں اکٹھے وہاں سے نکلے اور خان صاحب کی کوٹھی پر پہنچے۔Knock کی۔انہوں نے اپنے ڈرائینگ روم میں ان کو بٹھایا۔کہنے لگے جی ارشاد۔کہنے لگے نہیں کوئی ایسی بات نہیں۔ہمارے دل میں ایک خیال آیا کہ اتنی عمر ہوگئی ہماری، ہم خدا کو نہیں دیکھ سکے تو ہم نے سوچا۔یہ اللہ کا فضل ہو گیا ہے کہ کم از کم خدا کے چھوٹے بھائی کی ہی زیارت کر لیتے ہیں۔اب صاف بات ہے۔مقصد یہ تھا کہ ہاں یا ناں میں بات صاف ہو جائے گی۔خان صاحب نے بڑے وثوق کے ساتھ اور اعتماد کے ساتھ کہا۔ہاں یہ واقعی محض اللہ کے فضل سے آپ کو زیارت نصیب ہو رہی ہے۔خدا کے چھوٹے بھائی کی۔کہنے لگے احمدللہ یہ تو بڑا اللہ کا کرم ہے۔آپ کا احسان ہے کہ آپ نے شرف بخشا ہے۔بس ایک درخواست ہے۔بڑا بھائی کہنے لگا۔درخواست یہ ہے یہ جومیرا چھوٹا بھائی ہے اس کی دائیں آنکھ سلامت ہے۔بائیں آنکھ جو ہے وہ سلامت نہیں ہے۔یعنی ایک آنکھ کام ہی نہیں کرتی۔تو آپ کے بڑے بھائی نے ایک آنکھ دی ہے میرے بھائی کو۔آپ اس کے چھوٹے بھائی ہیں۔چھوٹی سی آنکھ آپ بھی مرحمت فرما دیں۔ع ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے کہنے لگے ہاں۔یہ مطالبہ تو بالکل معقول ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ حکومتوں میں بھی یہ چیز ہے۔چھوٹی سے لے کر بڑی حکومتوں تک اپنے سارے نظام کی بنیاد تقسیم کار پر رکھتی ہیں۔تو ہر