اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 29 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 29

29 29 و, جب یہاں تک قصہ ہوا۔تو اس کے بعد اس خصوصی کمیٹی کا اعلان کیا گیا۔مگر خصوصی کمیٹی کے متعلق میں آج کھلے لفظوں میں دنیا بھر کے دانشوروں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ کمیٹی اس لئے نہیں بیٹھی تھی کہ یہ معلوم کریں کہ جماعت احمد یہ خاتم النبین کو مانتی ہے یا نہیں مانتی۔وہ کمیٹی جیسا کہ دستاویزی ثبوت موجود ہیں اس لئے بیٹھی تھی کہ یہ تو ثابت کر دیا ہے ہم نے کہ مرزائی ختم نبوت کے منکر ہیں۔اب ہم نے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ختم نبوت کے منکروں“ کو کیا سزا دی جانی چاہئے قانونی اعتبار سے! یہی وجہ ہے کہ جس وقت یہ فیصلہ ہوا تو فیصلے کا عنوان ہی یہی تھا کہ منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔تو یہ عجیب بات تھی کہ جو ختم نبوت کا منکر ہے اس کے متعلق تو کسی فیصلے کی ضرورت کبھی پیدا ہی نہیں ہو سکتی تھی۔جو خدا کو نہیں مانتا اس کے متعلق کبھی اسمبلی بیٹھی ہے کہ اس کو ہم مسلمان سمجھیں یا غیر مسلم قرار دیں۔جوختم نبوت کا منکر ہے اس کو کون کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔تو پہلے سے فرض کر لیا گیا اُس ماحول کی روشنی میں جو قرار داد مکہ سے شروع ہوا۔اور یہ پیشگوئی میں موجود ہے۔”بحار الانوار میں علامہ باقر مجلسی نے کہا ہے کہ جب مہدی آئے گا تو سب سے پہلے مخالفت کرنے والے مکہ کے لوگ ہوں گے۔یہ پیشگوئی موجود ہے اس میں۔بلکہ تفسیر صافی میں لکھا ہے کہ سورہ القیامۃ میں جو یہ آیت ہے جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ( القيامة : 15) چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔کس زمانہ میں لگے گا ، کیا تعلق ہوگا ؟ تو حضرت امام جعفر صادق” کی روایت تفسیر صافی میں ہے کہ یہ واقعہ امام مہدی کے زمانہ میں ہوگا۔( کتاب الصافی فی تفسیر القرآن صفحہ 745 نا شر کتاب فروشی اسلامیہ تہران 1393 ق ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واضح کیا ہے کہ حقیقتاً جتنے بھی آئمہ اہل بیت تھے ، وہ صاحب کشف تھے۔صاحب الہام تھے۔امام جعفر صادق “ پر الہام کے طور پر یہ باتیں نازل ہوتی تھیں۔یہ تذکرۃ الاولیاء میں بھی موجود ہے۔یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی منکر ختم نبوت ہو اور اس کے متعلق دنیا کی کوئی مسلمان حکومت اسمبلی کا کروڑوں روپے خرچ کرے۔یہ اگر آپ دیکھیں کتنا بجٹ صرف ہوا ہے۔احمدیوں کی جائیدادیں تباہ ہوئیں۔کھربوں روپے پاکستان کے تباہ کئے گئے۔اسمبلی میں جانے والے ممبران کو روزانہ الاؤنس دیے جاتے تھے ، عیش بھی کرتے تھے۔رہائش کے سامان گورنمنٹ کی طرف سے ہوتے تھے۔پھر جو اس کے اوپر خرچ کیا گیا کھربوں رقم تھی جو کہ عوام سے لئے ہوئے یا سعودی عرب