اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 410
410 کتابیں ہیں۔یہ میں آپ کو Present کرنا چاہتا ہوں۔رات میں نے وہ کتابیں دیکھیں تو ان دونوں کا تعلق ہمارے انٹرویو کے ساتھ تھا۔ان میں کیا کچھ تھا۔وہ انشاء اللہ میں بعد میں بیان کروں گا۔نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ہمارے دین کا قصوں پہ ہی مدار نہیں ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ایک اور واقعہ بھی آپ نے ہمیں بتایا تھا حضرت خواجہ فرید الدین عطار کی کتاب کے بارے میں۔وہ بھی آپ بیان فرما دیں! نہیں کر سکتا۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔ہاں وہ مجھے یاد آ گیا ہے۔آپ کا شکریہ میں لفظوں میں ادا عے تیرے اس لطف کی اللہ ہی جزا دے ساقی بات یہ ہوئی۔یہ آخری دن تھا اور ہم لوگ ساری رات مولانا ابو المنیر صاحب کے صاحبزادے منیر الحق اور خدام الاحمدیہ والے وغیرہ ضمیموں کی تیاری کر رہے تھے یعنی ایک تو وہ امتحان تھا روزانہ جس کے پرچے دینے پڑتے تھے اسمبلی میں۔ایک یہ تھا کہ ساتھ ضمیمے دیئے جا رہے ہیں۔کتا میں پہنچائی جارہی ہیں۔تو آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔تیسری طرف یہ کہ تشویشناک اطلاعات مل رہی تھیں۔احمدیوں کے جان و اموال ہتھیا لئے گئے ہیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔تو قیامت خیز گھڑیاں تھیں دراصل جماعت کے لئے۔تو اس موقعہ پر کچھ سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ سوال کیا ہونے والے ہیں۔میں اب تک یہ سوچ رہا ہوں۔اب دیکھیں ہر لمحہ یہ خلافت کی تو جہات کے نتائج تھے۔جس طرح میں نے کہا ہے کہ سیدنا حضرت خلیفۃ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی توجہ کام کر رہی ہے۔اس انٹرویو میں یہ جو دو کتابیں ملی ہیں یہ حضور کی دعائے خاص کے نتیجہ میں ہیں۔میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا اور یہ اچانک ایسے وقت میں ملی ہیں کہ اس کا تذکرہ میرے لئے کرنا ضروری تھا۔لیکن میرے ذہن اور خیال میں بھی وہ چیزیں موجود نہیں تھیں۔پہلی دفعہ میں نے دیکھیں۔یہ خدا کا تصرف نہیں تو اور کیا ہے؟ میں عرض کر رہا تھا ساری رات ہم لوگ جاگتے رہے۔کوئی حوالے نقل کر رہا ہے۔اور کوئی جو