اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 372
372 حضرات کا بھی مرکز ہے۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بھی وہیں مدفون ہیں اور آئمہ اثنا عشریہ بھی۔وہ بھی دراصل ہمارے ہی آئمہ ہیں۔اہل بیت محمد۔ہم تو ان کی خاک پا ہیں۔تو یہ دو بھائی تھے۔گداگری کرنے کے لئے انہوں نے یہ سسٹم تجویز کیا کہ ایک بھائی پل کے ایک طرف بیٹھ جاتا اور حضرت ابوبکر صدیق کے نام پر مانگتا۔سنی اس کو پیسے دیتے۔دوسرا بھائی حضرت علیؓ اور حضرت حسین کے نام پر مانگتا تو شیعہ پیسے دے جاتے۔اس طرح دونوں کو بہت رقم جمع ہو جاتی۔رات جب اکٹھے ہو جاتے تو آدھا آدھا کر لیتے تھے۔یہ جنگ زرگری کہلاتی ہے ہم نے اس جنگ زرگری کو دیکھا ہے۔وہ تو بغداد کا زمانہ صدیوں پہلے کا ہے، ہم نے 1974ء میں خود اس جنگ زرگری کو دیکھا ہے۔اب اس جنگ زرگری میں علماء نے کہا کہ یہ تو ہماری وجہ سے ہوا ہے۔ہم تھے جنہوں نے زور ڈالا اور اس وقت بھٹو صاحب نے گھٹنے ٹیک دیئے۔اور پھر شاہ فیصل صاحب کی وجہ سے یہ سارا کام ہوا ہے۔اور پیپلز پارٹی والے کہہ رہے تھے کہ ہم ہیں دراصل۔ہماری وجہ سے یہ کام ہوا ہے۔اس پر یہاں تک ہوا کہ پیپلز پارٹی نے بڑے بڑے قد آدم پوسٹر ز شائع کئے۔یہ ایک پوسٹر ہے۔اس میں ستمبر 1974ء کے کاموں میں ہی لکھا ہے کہ وزیر اعظم بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ملک بھر وو سے داد تحسین حاصل کی۔66 جناب خورشید حسن میر ڈپٹی سیکرٹری پیپلز پارٹی مشرق نے رپورٹر کے حوالہ سے لکھا ہے:۔”مسٹر خورشید حسن میر نے کہا کہ جولوگ ذاتی مفاد کی خاطر مذہب کا ناجائز استعمال کر کے فتوے صادر کیا کرتے تھے ہماری جماعت نے شروع میں انہیں شکست دے دی تھی۔اب چار سال بعد مذہب کا غلط استعمال کرنے والے وہی لوگ پھر باہر نکل آئے ہیں۔“ قادیانی مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ