اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 362
362 اس روداد میں لکھا ہوا ہے۔آج ہم فاتحانہ شان سے کہتے ہیں کہ دو تیس مئی سے لے کر سات ستمبر تک ہم نے احتجاج کیا، جلوس نکلے، جلسے ہوئے۔مرزائیوں کا حقہ پانی بند ہوا۔“ گیانی واحد حسین صاحب مرحوم ایک دفعہ فرما رہے تھے۔پنجابی زبان میں تو ان جیسا لیکچرار میں نے جماعت میں نہیں دیکھا۔کہنے لگے کہ ایک گاؤں میں نمبر دار نے کہا کہ بس احمدیوں کا حقہ پانی ہم بند کرتے ہیں۔تو ایک احمدی تھے انہوں نے حقہ ان کے سامنے رکھا۔پی کے کہنے لگا کہ یہ حقہ بند تو نہیں ہوا۔میں اب بھی اسی طرح ہی پی رہا ہوں۔بہر حال یہ ایک دلچسپ لطیفہ تھا۔اس وقت کے ساتھ تعلق تھا۔جو الفاظ میں بتانا چاہتا ہوں وہ سننے کے لائق ہیں۔میں دوبارہ بتاتا ہوں کہ دو تمھیں مئی سے لے کر سات ستمبر تک احتجاج ہم نے کیا ، جلوس نکلے، جلسے ہوئے۔مرزائیوں کا حقہ پانی بند ہوا۔“ یہ نہیں بتایا کہ اسلام کا جلوس نکال دیا۔جس طرح حبیب جالب نے ایک شعر کہا تھا۔فاصلہ خود ہی کر ذرا محسوس یوں نہ اسلام کا نکال جلوس اسلام کا جلوس نکالا ہے انہوں نے۔حالانکہ علماء نے ،شریف علماء نے کہا کہ ایک طرف تم اقلیت قرار دینا چاہتے ہو۔اور اقلیت کے معنی ہیں کہ پہلے سے زیادہ ان کو حقوق دیئے جائیں۔اور اس کے لئے تم کہہ رہے ہو کہ ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔جبر کے ساتھ جو فیصلہ کیا جائے وہ تو اسلامی عدالت میں منظور ہی نہیں ہوتا۔یہ مشہور حدیث ہے۔بالجبرا کراہ ہے۔بالجبر اکراہ کے ساتھ جو کام کیا جاتا ہے اسلامی عدالت اس کو قبول نہیں کر سکتی۔حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کو اس وجہ سے کوڑے لگائے گئے کہ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ جبر کا نکاح، نکاح نہیں ہے۔انہوں نے ہر چیز گوارا کی مگر یہ گوارا نہیں کیا کہ جبر کے ساتھ جو کام کیا جاتا ہے اس کو اس رنگ میں قبول کر لیں۔مخالفین خود تسلیم کرتے ہیں کہ یزید کی طرح ہم نے کر بلا بنایا۔اس وقت چنیوٹ کا ہی ایک ایم پی اے تھا۔ان کی زبان کو تسلیم کرنا پڑا کہ ہم نے