اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 359 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 359

359 یہ وہی ملاں تھے جنہوں نے فور اقلا بازی کھائی۔تو کہتے ہیں کہ یہ اس صدی کا اہم فیصلہ اور عظیم کارنامہ شمار ہوگا۔بتارہے ہیں کہ بھٹو صاحب کا کارنامہ اس صدی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔کیونکہ فیصلہ تب ہی ہو سکتا تھا جب پیپلز پارٹی کی اکثریت اس کو تسلیم کرتی۔ملاں کے تو خیر چند ووٹ تھے۔آگے لکھتے ہیں کہ اب آئین میں ترمیم ہو جانے کے بعد بہ نسبت عوام کے حکومت کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔قوم نے تحریک کے دوران قادیانیوں سے بائیکاٹ اور آپس میں اتحاد کا جو بے نظیر مظاہرہ کیا ہے، مجلس عمل کی سر پرستی میں ان دو کامیاب ہتھیاروں کا استعمال اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک آئینی ترمیم کے تقاضے مکمل طور پر پورے نہیں ہو جاتے۔“ (صفحہ 8-9) کہہ رہے ہیں کہ ابھی کچھ بھی نہیں ہوا۔یہ سارے جھنگ کے ہی تھے۔یہ جھنگ کا ہی واقعہ ہے اور پارٹیشن سے پہلے کا واقعہ ہے۔یہاں جامع محمدی کے قریب ایک بستی ہے ساہمل۔یہ میرے نہال کی بستی ہے۔یہاں پارٹیشن سے پہلے پوری تجارت پر ہندوؤں کا قبضہ تھا۔کہتے ہیں کہ ایک مسلمان خاتون کچھ چھنے لے کر ایک ہندو کے پاس آئی اور اس سے کہا کہ یہ چنے دیکھ لیں تول لیں۔اس کے بدلے میں مجھے فلاں چیز دے دو۔۔۔یہ بارٹر سسٹم (Barter System) تو حکومتوں میں موجود ہے۔اس کے بغیر تو اکانومی برابر نہیں رہ سکتی۔کیونکہ اگر درآمدات اور برآمدات کا بیلنس نہ ہو تو حکومتوں کا تو دیوالیہ نکل جاتا ہے تو یہ اکثر متحدہ ہندوستان میں بارٹر سسٹم گاؤں کی حد تک جاری تھا۔بہر حال خاتون نے چنے دیئے۔تو لے تو پتہ نہیں کتنے بنے۔کہنے لگے کچھ بھی نہیں بنا۔وہ حیران ہوگئی کہ چنے میں لے کے آئی ہوں۔کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ میں نے پاسکو جو ہے ناوہ ایک سیر کارکھا ہوا ہے۔تو جب تک دوسیر نہ دو کچھ بھی نہیں ہے تمہارا۔تو ملاں چنیوٹی نے کہا کہ فیصلہ تو بڑا ہوا ہے۔تاریخی فیصلہ ہے مگر بنا کچھ بھی نہیں ہے۔اب ذمہ داری حکومت کی یہ ہے کہ وہ جو باقی ہمارے ہتھیار ہیں، وہ استعمال کرنے ہیں ورنہ ہمارا کچھ بھی نہیں رہ جائے گا۔ہم دعوے تو کر رہے ہیں کہ بس جی اب مرزائیت کے تابوت کو ہم نے چناب کی لہروں کے