اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 356
356 کھا لیں تحفظ ختم نبوت کے لئے دیں۔ساری عمر کھا لیں ادھیڑتے رہے مگر کھالوں کے لینے کا جب بھی موقع عید قربان پر آتا ہے، کبھی بھی اس معاملے میں مجلس احرار نے کمی نہیں کی۔تو انہوں نے کہا :۔میں مسلمانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میاں طاہر جب سے انگلستان میں آگئے ہیں انہوں نے کروڑوں اور کھربوں کے منصوبے شروع کر دیئے ہیں۔( تو یہ حالت ہے ) اس واسطے ختم نبوت کے پروانوں کو چاہئے کہ کم از کم عید کے موقع کی جو کھالیں ہیں وہ تحفظ ختم نبوت کوضرور جمع کر کے دیں۔مولانا ابو الحسن ندوی صاحب تحریک ختم نبوت جلد سوم صفحہ 960) مولانا دوست محمد شاہد صاحب : - ماہنامہ ” الحق“ میں اس کے بعد ماہ دسمبر اور جنوری 1975ء کے شماروں میں بھی کچھ تاثرات چھپے ہیں۔اس میں ”حضرت مولانا ابوالحسن صاحب ندوی سربراہ ندوۃ العلماءلکھنو کا تبصرہ بھی ہے۔انہوں نے سمیع الحق صاحب کو لکھا۔اس ایک فیصلہ نے افہام و تفہیم اور اطمینان قلب کی وہ خدمت انجام دی جو علماء کی سینکڑوں تصنیفات اور ہزاروں تقریریں نہ انجام دے سکتیں۔( یعنی جو کام ملاؤں کے سوسالہ تصنیفی کارناموں سے نہیں ہوسکا وہ بھٹو صاحب کے اس فیصلے نے سرانجام دیا ہے۔) اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسلام اور تبلیغ اسلام کے نام سے احمدیت کی تبلیغ کا جو کام کیا جاتا تھا وہ بے اثر اور بے بنیاد ہو گیا۔“ ( الحق دسمبر 1974ء جنوری 1975 ء صفحہ 6) اب آپ دیکھیں کہ یہ ندوۃ العلماء لکھنو کے سربراہ صاحب ہیں اور اس کے بانی مولا ناشیلی نعمانی تھے۔انہوں نے اپنے شعری کلام میں ایک جگہ لکھا ہے کہ :۔میں نے علماء سے کہا کہ احمدی تو یورپ میں پہنچ کر اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنی دعوت الی اللہ کے ذریعہ سے اسلام کے ڈنکے بجا دیتے ہیں۔تو آپ لوگ کیوں نہیں جاتے تو