اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 21
21 آپ حیران ہوں گے، یہی نہیں بلکہ بھٹو گورنمنٹ نے جو رو دا دانگریزی زبان میں شائع کی اس میں صاف طور پر تصویر میں دیں کہ فیصل صاحب اور تمام سربراہان مملکت ڈانس کا نظارہ کر رہے ہیں۔عورتیں ڈانس کر رہی ہیں تو یہ خلافت کے قیام کی سکیم تھی جو دنیا کو بتائی جارہی تھی اور در پردہ یہ سارے قصے ہورہے تھے۔(Report on Islamic Summit Conferane Lahore, February 22-24,1974۔) اس پلاننگ کے ماتحت سعودی عرب میں سب سے پہلے اس پر ا پیگینڈے کو ہوا دینے کے لئے مکہ شریف سے مؤتمر عالم اسلامی کی قرار داد شائع ہوئی۔( الندوہ 16 ربیع الاول 1394ھ ) خصوصی کمیٹی اور اس میں جو نمائندے تھے مؤتمر عالم اسلامی کے ، انہوں نے یہ بھی تلقین کی کہ ہم نے غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے۔اس لئے تمام مسلمان ممالک کا فرض ہے کہ وہ اپنے تئیں اس قرار داد کو پاس کریں قانونی طور پر اور اپنے Constitution میں اس کو شامل کریں۔جسے بعد میں پاکستان نے شامل کیا ہے۔حالانکہ آپ دیکھیں کہ رابطہ عالم اسلامی میں مسلم ممالک ضرور موجود ہیں مگر ان میں وہ ممالک بھی ہیں کہ جو جمال عبدالناصر کو آخری نبی مانتے ہیں۔کویت میں اشتہار شائع کیا گیا کہ اے عبد الناصر تم آخری نبی تھے۔تمہارے جانے کے ساتھ ہمارا مستقبل تاریک ہو گیا۔(اخبار الکویت 15 اکتوبر 1970ء ) پھر شیعہ حضرات ہیں تو انہوں نے انٹر نیشنل ” کیہان، جو بڑا مشہور، کثیر الاشاعت، ایران کا سرکاری ترجمان ہے۔اس میں کارٹونوں کے ساتھ یہ شائع کیا گیا کہ سعودی عرب کا اسلام حقیقی اسلام نہیں ہے۔لنڈن میں کانفرنس ہوئی شیعوں کی طرف سے اور اس میں غالباً عراق ہی کا شیعہ نمائندہ تھا۔اس نے کہا کہ یہ عیاش قوم ہے جنہوں نے سارے پیسے اپنے خاندان پر لگانے کے لئے ہر چیز داؤ پر لگادی ہے۔اس وجہ سے اٹھو اور اس کو الگ کر دو۔کیونکہ اسلام میں قطعی طور پر کسی ملک کو خاندانی جاگیر کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔یہ یزید کا پرچم تھا۔یہ اس کو گرا کر رکھیں گے۔تو مؤتمر عالم اسلامی کی قرارداد کی کیا حیثیت تھی۔مگر یہ Background تیار کیا جا رہا تھا، اسی طرح بعد میں بھی اور خود مفتی عبداللہ بن باز نے جو ان دنوں مفتی اعظم تھے، شیعوں کے متعلق کھلے لفظوں میں یہ بات کہی کہ ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں