اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 341
341 تاثرات اب کچھ سامنے آئے ہیں۔اگر آپ وہ بھی ناظرین کے سامنے بیان فرما دیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔بات یہ ہے کہ کارروائی کے دوران یا کارروائی کے بعد کئی دوستوں سے ہمارے بعض احمدیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا، انہی کے ذریعہ سے پھر انہی دنوں میں یہ بات مجھ تک پہنچی کہ پیپلز پارٹی کے جو مبرز ہیں انہوں نے برملا اظہار کیا ہے اور خاص طور پر حضرت خلیفة أسبح الثالث" کے نورانی چہرہ کو دیکھ کے اور آپ کے انداز گفتگو اور قرآن وحدیث سے مرصع جوابات کو دیکھنے کے بعد کہنے لگے کہ ہم تو اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اصل مسلمان آپ ہی ہیں۔لیکن یہ یا درکھیں کہ ہم پیپلز پارٹی کے دستور اور ان کے پالیسی کے ماتحت ہیں۔بس اتنی بات یادر ہے۔یہ باتیں انہی دنوں ہم تک پہنچی تھیں۔ایک بات تو یہ ہے۔خصوصی کمیٹی کے ممبران سے وفد کو براہ راست ملنے کا کوئی بھی موقع نہیں تھا نہ ضرورت تھی۔نہ اختیار تھا نہ کوئی وجہ تھی۔مگر ایک دن ایسی صورت ہوئی جس سے کہ براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ طور پر قلمی تاثر کی عکاسی ہوتی ہے۔بات یہ ہوئی کہ عام معمول کے مطابق سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثالث اپنے خدام کے ساتھ اجلاس کے اختتام کے معا بعد اسمبلی ہال سے باہر لاؤنج میں میرا انتظار کر رہے تھے۔میرے پاس چونکہ کتا بیں بھی تھیں۔بکس تھے تو میں دستاویزات کو ، کتابوں کو ، رسالوں کو اپنی اپنی جگہ پر رکھ کر پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔تو حضور از راہ شفقت کچھ انتظار فرماتے۔تو میں نے کتابیں جب بکسوں میں رکھیں اور لے جانے کے لئے ہال سے باہر جارہا تھا تو ایک کونے سے آواز آئی کہ یہ کتابیں ہمیں دے کے جائیں۔ابھی یہ آواز بلند ہوئی تو اس کے ختم ہونے کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی والوں کی طرف سے آواز آئی کہ یہ لیتے جائیں۔یہ بم ہیں۔یہاں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس پر میں یہ کہہ کر فورا باہر آ گیا کہ یہ بم زندوں کو مارنے کے لئے نہیں، مر دوں کو زندہ کرنے کے لئے ہیں۔حضور مجھ ناچیز کو دیکھتے ہی مسکرائے اور نہایت شفقت بھرے انداز میں فرمایا۔شیر آ گیا؟“ تو اس سے آپ اندازہ کرتے ہیں کہ دل تسلیم کرتے تھے کہ حقیقی اسلام جماعت کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔اے مدعی ! نہیں ہے ترے ساتھ کردگار یہ کفر تیرے دیں سے ہے بہتر ہزار بار