اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 335 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 335

335 آل محمد سید ولد آدم و خاتم النبيين۔۔چیئرمین کمیٹی جناب صاحبزادہ فاروق علی صاحب کے تاثرات کے بارے میں آپ نے استفسار فرمایا ہے۔اس فیصلے کے یعنی 7 ستمبر کے دو ماہ بعد 12 نومبر 1974ء کو مسٹر بھٹو وزیر اعظم پاکستان ملتان تشریف لے گئے۔ان کو سی آف (See Off) کرنے کے بعد میاں فاروق علی صاحب ملتان کے بار روم میں تشریف لائے اور ایک پروگرام کے تحت غالبا تمام ملتان یا ملتان ضلع کے ایڈووکیٹس جمع تھے۔اس موقع پر ان سے کچھ سوالات جماعت اسلامی کے ایک ایڈووکیٹ صاحب کی طرف سے کئے گئے۔اور خلاصہ ان سوالوں کا یہ تھا پہلے نمبر پر کہ آپ کا بہت شکریہ، پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ کا کہ جنہوں نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔اس تعلق میں کچھ اور مطالبات بھی ہیں۔امید ہے اس کی طرف بھی توجہ کریں گے۔یہ سوال صاحبزادہ فاروق علی صاحب سے کیا گیا۔یہی پالیسی ملاں کی رہی ہے۔پہلے ایک مطالبہ کرو وہ پورا ہو جائے تو پھر آگے چلو۔پھر بے شمار مطالبات شروع کر دو۔پوری تاریخ یہی بتاتی ہے۔تو یہ اپنی قدیم پالیسی ملاں نے اب تک جاری رکھی ہوئی ہے۔صاحبزادہ فاروق علی صاحب فرمانے لگے کہ حضرت بات یہ ہے کہ جو اصل مطالبہ تھا وہ تو ہم پورا کر چکے ہیں۔اب کوئی اور تقاضا کسی مطالبے کے پورا کرنے کا باقی ہی نہیں رہا۔میں یہ آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ فیصلہ ہم نے کوئی دلائل کی بنا پر نہیں کیا۔بلکہ عوام اور بیرونی مسلم ممالک کے دباؤ کی وجہ سے کیا ہے۔جب یہ بات کہی انہوں نے اشارہ کیا۔انہوں نے سعودی عرب کا نام نہیں لیا جس نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔میرا خیال ہے میں اشارہ بتا چکا ہوں۔مولوی منظور چنیوٹی صاحب نے دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں بعد ازاں تقریر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ یہ بھٹو صاحب کا کارنامہ نہیں۔یہ حضرت شاہ فیصل کا کارنامہ ہے۔انہوں نے حکومت پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج نہ کیا گیا تو پھر پاکستان سے کسی آدمی کو حج بیت اللہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس وجہ سے بھٹو صاحب کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔جناب ایم حمزہ نے بھی اس حقیقت کا انکشاف کیا۔چنانچہ روزنامہ امروز رقمطراز ہے کہ پاکستان جمہوری پارٹی پنجاب کے صدر مسٹر حمزہ سابق ایم۔پی۔اے نے کہا ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے پر وزیر اعظم بھٹو کو مبارک بادیں پیش کرنے والوں کو شرم کرنی چاہیے۔