اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 311
311 سے خالی نہیں ہوگا۔چیئر مین صاحب یعنی صاحبزادہ فاروق علی صاحب کی تنبیہ پر مجھے متحدہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر ایس پی سنگھا کا واقعہ یاد آ گیا۔کہتے ہیں کہ سرکاری پارٹی کا پیش کردہ بل پنجاب اسمبلی میں زیر بحث تھا یعنی وہ متحدہ اسمبلی تھی مشرقی اور مغربی پنجاب۔یہ تو بعد میں قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب کو ذبح کر کے علیحدہ کیا گیا ہے۔سرکاری پارٹی کا پیش کردہ بل زیر بحث تھا کہ اپوزیشن نے مخالفانہ نعرے لگانے شروع کر دئے۔کرسیاں چلنے لگیں اور اسمبلی ہال میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔قبل اس کے کہ مار پٹائی تک نوبت پہنچے، مسٹرایس پی سنگھانے بلند آواز سے کہا کہ آنریبل ممبران کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ اسمبلی ہال ہے، چنگڑ محلہ نہیں ہے۔اس پر اسمبلی پر تو پوری طرح سناٹا چھا گیا جس طرح کہ سکوت مرگ جس کو اردو میں کہتے ہیں اور جوسر کاری بل تھا وہ پاس ہوا اور پھر آئین کا حصہ بنا۔مگر اگلے روز چنگڑ محلہ میں ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔اتفاق ملاحظہ ہو کہ اس محلہ کا ایک مکین جو ایک روز قبل پنجاب اسمبلی کی وزٹرز گیلری (Visitors Gallery) میں بیٹھا آنریبل ممبران اسمبلی کا تماشہ دیکھ چکا تھا۔صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے کھڑا ہو گیا اور انہیں شرم دلائی اور کہا کہ یہ چنگڑ محلہ ہے، اسمبلی نہیں ہے۔یہ سن کر اہل محلہ کے سر ندامت سے جھک گئے اور دوبارہ امن وامان کی فضا قائم ہوگئی۔مولانا ظفر انصاری صاحب کا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے نام ایک خط حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا ظفر انصاری صاحب کے بارہ میں کچھ بتانا پسند فرمائیں گے۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔میں ظفر انصاری کے ایک مکتوب کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ظفر انصاری صاحب ( جنہوں نے آخری دن حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے سوالات کئے۔) نے 7 اگست 1935 ء کو جبکہ ابھی وہ لاہور میں تھے اور درشن لال ولالہ دیں راج کولڈ بینک متصل تھانہ گوالمنڈی لاہور میں مقیم تھے۔یہاں سے انہوں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو قادیان کے پتہ پر خط لکھا۔اس کے اوپر الفاظ یہ تھے:۔قبلہ وکعبہ حضرت خلیفة المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت 66 خلیفہ بشیر الدین محمود صاحب قادیان شریف۔“