اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 14
14 مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔اور پاکستان کے متعلق یہ نظریہ تھا جس پر وہ آخر وقت تک ڈٹے رہے اور یہی وہ عملی پر وگرام تھا جس کے لئے سر دھڑ کی بازی ساری عمر مجلس احرار نے لگائی ہے اور آج تک وہی کام جاری ہے۔پھر 1934 ء میں مجلس احرار نے جلسہ کیا قادیان میں اور اس میں 23 اکتوبر 1934 ء کو جماعت احمدیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کی قرارداد پاس کی اور قرار داد پیش کرنے والے وہ علماء تھے جو کانگریسی اور دیو بندی تھے۔عجیب بات ہے یہ اس وجہ سے کیا گیا کہ کانگریس کی انتہائی کوشش تھی کہ گول میز کانفرنس (Round Table Conference) مسلمانوں کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کرے کیونکہ خود نہر و صاحب اپنی کتاب ” میری کہانی“ میں لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک تو پہلے سیشن میں بائیکاٹ کیا۔ایک میں گاندھی صاحب گئے اور انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا اور تیسرے میں ایسی صورت ہوئی کہ قائد اعظم نے فیصلہ کر لیا کہ میں اب ہندوستان واپس نہیں جاؤں گا کیونکہ کانگریس تو کوئی بات مسلمانوں کے متعلق مانتی نہیں، کیوں نہیں مانتی تھی ؟ پنڈت نہرو نے یہ میری کہانی میں لکھا ہے۔ہم اس لئے نہیں گئے تھے کہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کے متعلق وہاں پر کوئی رائے اختیار کریں یا کوئی فیصلہ کریں یا مفاہمت کریں کیونکہ یہ کام برطانوی گورنمنٹ کا نہیں تھا۔یہ کانگریس کا کام ہے۔انگریزوں کا اتنا ہی کام ہے کہ وہ جلدی۔جلدی مکمل طور پر یہاں سے نکل جائیں اور اس کے بعد پورا اقتدار کانگریس کو جو کہ واحد جمہوری پارٹی ہے، اکثریت کی پارٹی ہے اس کو منتقل کر دیں۔یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے، یہ انگریز کا کام نہیں ہے۔” میری کہانی از جواہر لال نہرو حصہ اول صفحہ 399-397 ناشر مکتبہ جامعہ اشاعت 1936ء) اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو ، آغا خان کو، حضرت قائد اعظم کو، جنہوں نے سردھڑ کی بازی لگا دی مگر دیو بندی علماء بھی احراری بھی، کانگریسی بھی ، یہی شور مچاتے رہے کہ یہ گول میز کانفرنسیں ناکام رہیں۔انگلستان کے سیاستدانوں کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے متعلق کوئی بات کریں۔جمہوری لحاظ سے اور پارٹیشن کے لحاظ سے اس کا تعلق تو صرف کانگریس کے ساتھ ہے۔قائد اعظم نے 1933ء میں جب جماعت احمدیہ کے امام حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر دوبارہ ہندوستان آنے پر آمادگی ظاہر کی تو آپ نے سب سے پہلے جو لیکچر دیا وہ مسجد فضل لنڈن