اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 13
13 کا نفرنس اور سٹالن کی ملاقات 28-1927ء کی بات ہے۔اگلے سال 31 دسمبر 1929ء میں کانگریس کے پلیٹ فارم پر جیسا کہ مجلس احرار کے پہلے صدر مولوی حبیب الرحمان صاحب کی سوانح عمری میں (جو ان کے بیٹے عزیز الرحمان صاحب جامعی نے رئیس الاحرار کے نام سے لکھی ہے ) اور شورش کا شمیری صاحب نے اپنی کتاب میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے تذکرے میں کھلے لفظوں میں بات کہی ہے کہ یہ ساری پلانگ مولا نا آزاد کی تھی۔ان کے کہنے پر کانگریس کے پلیٹ فارم پر مجلس احرار اسلام قائم ہوئی ہے۔(رئیس الاحرار صفحہ 144 مؤلف عزیز الرحمن جامعی لدھیانوی اشاعت 1961ء) اور مولانا ابوالکلام آزاد کا مسلک کیا تھا؟ ان کی کتاب جو کہ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی’India Wins Freedom‘ اس کے کئی انگریزی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ترجمہ بھی مولا نا رئیس جعفری کا ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : آزادی ہند کے نام سے ہے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہاں بھی چھپا ہے۔ہندوستان میں کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔اس میں انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ میں پاکستان کا لفظ کسی ملک کے لئے جائز ہی نہیں سمجھتا۔یہ اسلام کے خلاف ہے کہ ایک ملک کا نام پاکستان رکھا جائے کیونکہ اسلام اس تقسیم کو جائز نہیں قرار دیتا کہ کسی زمین کو نا پاک کہا جائے اور کسی کو پاک قرار دیا جائے۔Totally میں اس سے Differ کرتا ہوں۔ہاں میں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ یہود بہت بے بس ہیں، بہت بڑی تعداد ہے۔Intelligent لوگ ہیں ، ان کی کوئی حکومت نہیں، مسلمانوں کی تو بے شمار حکومتیں ہیں، کسی نئی حکومت کی ان کو کیا ضرورت ہے۔اس بے بس قوم (یہود ) کے لئے ایک Home Land ضرور ہونا چاہئے۔("India Wins Freedom" Published by Orient Longmans Calcutta Page 142-143 Printed in 1959) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یعنی یہودیوں کے لئے تو ان کے دل میں یہ بات تھی۔