اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 247 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 247

247 احراری علماء اور دیوبندی علماء کانگرس کے ہتھے چڑھ گئے اور ان کے جھنڈے بندھ گئے۔ساری تاریخ کو تبدیل کر دیا۔اور یہ ثا بت تھا کہ مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کے خلاف دشمنوں نے یہ کہا تھا کہ وہ بغاوت میں شامل تھے۔مگر اب جونئی کتا بیں چھپی ہیں جس میں حسین مدنی صاحب کی کتاب ”نقش حیات بھی ہے۔اس میں اس جگہ پر پیش کیا گیا کہ گویا معاذ اللہ وہ ہندوؤں کی اس تحریک میں شامل تھے، اور کہا کہ جی اس کی آزادی میں حضرت مولانا نے بھی بہت بڑا کردار ادا کیا۔یعنی اپنی تاریخ بدل دی صرف اس لئے کہ کانگرس کے ساتھ جو مراسم ہیں، وہ قائم رہیں۔اور جو کچھ ملتا ہے وہ ملتا چلا جائے۔اتنی ظالمانہ پالیسی ہے۔تو یہ کوئی جنگ آزادی نہیں تھی یہ حقیقتا غدر تھا۔بہادر شاہ ظفر کے لحاظ سے بھی ، مولوی نذیرحسین کے لحاظ سے بھی ( فتاوی نذیریہ جلد 4 صفحہ 472) ، خلیفہ المسلمین ترکی کے لحاظ سے بھی ، ( " تاریخ اقوام عالم صفحہ 639 از مرتضی احمد خان میکش ناشر مجلس ترقی ادب 2 نرسنگھ گارڈن کلب روڈ۔لاہور ) مکے کے جو اس وقت مفتی تھے ان کے لحاظ سے بھی ( ”سید عطاء اللہ شاہ بخاری“ صفحہ 31 مؤلفہ شورش کا شمیری ) اور ہندوستان کے بڑے بڑے مذہبی رہنماؤں کے لحاظ سے بھی۔اب میں آخر میں جو بات عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ عجیب بات ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جی یہ انگریز کا لگایا ہوا پودا ہے۔مطلب یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کی بنیاد اس زمانہ میں رکھی گئی جبکہ یہاں پر برطانوی حکومت تھی۔حالانکہ یہ بتائیں کہ یہ جتنی تنظیمیں ہیں، بریلوی تنظیم ہو، اہل حدیث ہو، یہ سارے انگریز کے زمانہ کی تحریکیں ہیں۔خود احرار انگریز کے زمانہ میں بنی ہے۔مگر جماعت احمدیہ کا یاد رکھیں انگریز کے زمانہ میں قائم ہونا اور مسیح موعود کا آنا اور اس لئے آنا کہ مسلمان اسلام کو چھوڑ چکے تھے۔یہ سیح موعود اور جماعت احمدیہ کی حقانیت کے روشن نشان ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے؟ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔یہ حیرت انگیز انکشاف ہے۔جماعت احمدیہ کا قیام کس سن میں ہوا تھا؟ 1304 ہجری میں یعنی 1889ء میں۔یہ دو سال پہلے کی کتاب ہے۔”حقیقت گلزار صابری“ یہ صابری بزرگ گزرے ہیں۔مرشد برحق ، ہادی مطلق ، واقف اسرار حقیقت محمدی حضرت بادشاہ دو جہاں مخدوم شاہ محمد حسن صاحب صابری چشتی حنفی قدوسی معشوق شام کے بزرگ تھے۔اور یہ کتاب رام پور کے پریس جس کا نام حسنی تھا، اس میں چھپی۔یہ چوتھا ایڈیشن ہے میرے پاس اس کا۔پہلا ایڈیشن بھی موجود ہے۔یہ مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری کے حالات پر لکھی گئی ہے۔