اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 237
237 مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔یہ غیر مسلموں کا ذکر ہے۔تو میں اس کی تشریح کر رہا ہوں کہ خدا نے ایسے دلائل دیئے ہیں کہ ان کے مذہب کو کھا جانے والے ہیں۔مذہب کا لفظ ہے اور مذہب تصورات کا نتیجہ ہوتا ہے۔نظریات کا نام ہے مذہب۔تو فرمایا تمہارے مذہب کے مقابل پر ہمارے دلائل تمہیں ختم کر کے چھوڑیں گے۔چنانچہ مسیح موعود کا نام ہی کا سر صلیب ہے تو حضور نے انجیل سے یہ بات ثابت کی۔انجیل (عبرانیوں ) میں لکھا ہے کہ اس نے بشریت کے دنوں میں رورو کے اور تضرع سے دعا کی جو اس کو بچا سکتا تھا اور خدا نے تقویٰ کے سبب اس کی دعا قبول کر لی۔یہ حوالہ اعلان عام کر رہا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے خدا کی جناب میں تضرع کی ، عاجزی کی، آنسو بہائے کہ اے باپ اگر ہو سکے تو یہ موت کا پیالہ ٹال دیا جائے۔تو خدا نے تقویٰ کے سبب ان کی دعاؤں کو قبول کر لیا۔صاف ثابت ہے کہ خدا نے اس طرح ہی ان کو مبعوث کیا جس طرح حضرت ابراہیم آگ میں جلائے گئے مگر آگ جلا نہیں سکی۔موسیٰ علیہ السلام سمندر میں چلے گئے مگر سمندران کو نگل نہیں سکا۔آنحضرت نے غار ثور میں پناہ لی مگر دشمن آپ کے اوپر مسلط نہ کیا جا سکا۔تو یہ خدا تعالیٰ کے عجائبات ہیں نبیوں کے ساتھ۔یہی صورت باقی نبیوں کے ساتھ ثابت ہوئی۔یہی مسیح علیہ السلام کے ساتھ ثابت ہوئی اور آج یہ عجیب بات ہے ایک بہت بڑی تعداد یورپ کے سکالرز کی جن میں جرمنی کے بعض سکالرز شامل ہیں، کسر صلیب کا نفرنس لندن میں انہوں نے مقالہ پڑھا اور آج تو دنیا گونج رہی ہے ان حقائق سے۔امریکہ سے رسائل چھپ رہے ہیں، فلمیں دکھائی جارہی ہیں انڈیا میں اور اس کے علاوہ امریکہ میں، جرمنی میں۔خود وہاں سے آئے ہوئے ایک احمدی مبلغ نے مجھے اس کے شیپ وغیرہ بھی بھجوائے ہیں۔آج دنیا پر کھل گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر نہیں گئے بلکہ ہجرت کر کے کشمیر پر تشریف لے آئے تھے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ڈوینچی کوڈ (DEVENCI CODE) کے نام سے ی فلم ہے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔مجھے یاد ہے۔عرصہ ہوا ، یہ خلافت رابعہ کے زمانے کی بات ہے۔ہمارے مکرم نواب منصور احمد خان صاحب وکیل التبشیر تھے۔تو وہ خاکسار کے پاس