اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 220
220 نے ایک عبارت خود بنائی۔صرف اس لئے کہ امت مسلمہ خود گالی دینا چاہتے تھے کو مگر منسوب حضرت مسیح موعود کی طرف کیا ہے۔ان کے الفاظ تھے۔قبلني جميع المسلمين ولم يرفضنى الا اولاد العاهرات والموبسات (المتنبي القادياني صفحه 36 طبعة جديدة بالأوفست حسين حلمی بن سعید استانبولی۔مكتبه اشيق شارع دار الشفقت استانبول ترکی ) که زنا کاروں کی جو ذریت ہے اس کے سوا باقی مسلمان جو ہیں وہ سارے مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔حالانکہ یہ الفاظ مسیح موعود علیہ السلام کے ہیں ہی نہیں اور یہ اس لئے بنائے گئے تاکہ دنیا کو بتایا جائے کہ گالی دینے والے یہ لوگ تھے۔اس سلسلہ میں میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ کتاب استنبول سے چھپی ہے۔اور انہی ایام میں چھپی ہے جب کہ ہمارے خلاف استعماری طاقتیں اس تحریک کی پشت پناہی کر رہی تھیں۔یہ در اصل عالم اسلام کو ختم کرنے کی تحریک تھی۔پاکستان کو ختم کرنے کی تحریک تھی۔حضرت امام جعفر صادق کا یہ قول موجود ہے کہ سوائے ہمارے ساتھیوں کے اور ہماری جماعت شیعہ کے سارے کے سارے اولاد البغایا ہیں۔( الفروع الکافی من الجامع الکافی جلد 3 کتاب الروضۃ صفحہ 135 مصنفہ رئیس محد ثین اشیخ الامام الحافظ ثقة الاسلام ابی جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی الرازی، مطبع العالى المغر بی نولکشو رلکھنو جولائی 1886ء)۔یہ شائع شدہ موجود ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے کہ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ معاذ اللہ حضرت جعفر صادق نے یہ فرمایا ہے کہ جو ہمارا مسلک نہیں رکھتا وہ اولاد البغایا ہے۔کوئی بھی شریف النفس انسان ایک امام عالی شان کی طرف یہ معنی منسوب نہیں کر سکتا۔لیکن ان لوگوں کے دل میں چونکہ بغض ہے عالم اسلام کے خلاف۔اس بغض کو مسیح موعود کے نام سے شعلہ جوالہ بنانا چاہتے ہیں۔اور اس کا ثبوت یہی کتاب ہے جو کہ مفتی محمود صاحب کی میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے۔خود عبارت بنا کے مسیح موعود کی طرف منسوب کی ہے۔حالانکہ مسیح موعود علیہ السلام کا تو کھلا فرمان یہ ہے کہ۔ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہو دے دل و جاں اس پہ قرباں ہے پھر فرماتے ہیں کہ۔