اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 215 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 215

215 فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو فقر کی انتہائی منزل تک پہنچتا ہے اور مقدس بن جاتا ہے وہ ایک بچہ کی مانند محمد مصطفی ﷺ کے حضور حاضر ہوتا ہے۔اور حضرت محمد رسول اللہ صلعم کمال لطف اور شفقت اور مرحمت سے اس نوری بچے کو اپنے اہل بیت پاک میں جناب امہات المؤمنین، حضور حضرت فاطمہ الزہراء و حضرت بی بی خدیجۃ الکبری و حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہن کے سامنے لے جاتے ہیں۔“ جب انسان عشق رسول کی معراج تک پہنچتا ہے تو جناب الہی سے اس پر کشفی حالت طاری ہوتی ہے اور وہ محمد رسول اللہ کے دربار میں حاضر ہوتا ہے اور پھر عشق رسول کے نتیجے میں وہ امہات المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے بچہ کی شکل میں۔وہاں ہر ایک ام المؤمنین اسے اپنا فرزند کہتی ہیں اور اپنا نوری دودھ پلاتی ہیں اور وہ شیر خوار اہلبیت خاص ہو جاتا ہے اور اس کا نام فرزند حضوری اور خطاب فرزند نوری ہو جاتا ہے۔" یہ مقام اس کو ملتا ہے اور فرماتے ہیں کہ مجھے بھی یہ مقام حاصل ہوا۔آگے لکھتے ہیں کہ حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اس فقیر کو باطن میں اپنے حرم محترم کے اندر کمال شفقت اور مرحمت سے لے گئے اور حضرت امہات المؤمنین حضرت فاطمہ الزہراہ اور حضرت خدیجۃ الکبری اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہن نے اس فقیر کو دودھ پلایا۔“ یعنی صرف حضرت فاطمہ نے نہیں بلکہ تمام ازواج مطہرات نے۔اور آنحضرت صلعم اور امہات المؤمنین نے مجھے اپنے نوری حضوری فرزند کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔“ یہ صفحہ 224، 225 ہے اور اس کا طبع پنجم ہے جو 1976 ء میں شائع ہوا۔اور آخر میں میں دوشعر ناناضروری سمجھتا ہوں۔جماعت کے ایک بہت مشہور شاعراگر چہ وہ آج کی نسل سے فراموش ہو گئے ، حافظ سلیم اٹاوی صاحب۔ان کا شعر ہے۔