اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 5 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 5

5 کے مقدس خلفاء کی حیرت انگیز پیشگوئیوں کی تجلیات کا ظہور اپنی آنکھوں سے اخباروں، ریڈیو اور پریس کے ذریعہ دیکھا اور ہمارے نبی، نبیوں کے سردار، نبیوں کے شہنشاہ، نبیوں کے فخر ، خاتم النبین ، خاتم المؤمنین ، خاتم العارفین ﷺ کی صداقت کے سورج چڑھ گئے۔مصطفیٰ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا، بار خدایا ہم نے قبل اس کے کہ سوال و جواب کا آغاز ہو، تاریخ کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے آپ حضرات کو یہ بتانا ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت نے بڑی وضاحت سے فرمایا ہے کہ قرآن مجید آسمانی علوم کا ایک جامع اور آخری انسائیکلو پیڈیا ہے جس میں بے شمار علوم موجود ہیں اور ان علوم میں تاریخ بھی سر فہرست نظر آتی ہے۔قرآن کا اعجازی نشان یہ ہے کہ اس نے تاریخ کے سنہری اصول بیان کئے ہیں۔آج دنیا کی مذہبی تاریخ کو تقریباً پانچ ہزار سال گذرے ہیں۔بڑے بڑے مؤرخ یونان سے لے کر مصر اور مصر سے لے کر ہندوستان میں پیدا ہوئے اور پیدا ہو رہے ہیں۔مؤرخ اسلام حضرت ابن خلدونؒ جنہیں مغرب کی دنیا بھی فلسفہ تاریخ کا سب سے بڑا سکالر بلکہ بانی قرار دیتی ہے۔انہوں نے قرآن ہی کے اصولوں کو لے کر اپنی معرکۃ الآراء تالیف ”مقدمہ ابن خلدون سپر قلم فرمائی ہے۔قرآن کے اصول جن کا براہ راست تعلق علم تاریخ سے ہے کیونکہ جس واقعہ کے متعلق مجھے عرض کرنا ہے وہ علم تاریخ ہی کا واقعہ ہے اور وہ واقعہ ایک ایسی مملکت میں پیش آیا جس کا اعلان ابتداء سے یہی ہے کہ یہ اسلامی مملکت ہے۔اور اسلام فقہاء کی آراء کا نام نہیں ہے کہ جس کا کوئی شمار نہیں ہے، جس میں خوفناک تضاد موجود ہے، اور جس کا اکثر حصہ قرآن وحدیث سے، بالکل متضاد حیثیت رکھتا ہے۔قرآن نام ہے ہمارے آقا محمد عربی ﷺ کی لائی ہوئی شریعت قران مجید کا۔قرآن مجید میں سب سے بڑا اصول تاریخ کا یہ رکھا گیا ہے۔قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يه سورة الاحزاب آیت 71 میں ہے۔پھر فرمایا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ( المائدہ: 9) اے تاریخ لکھنے والو! تاریخ پر غور کرنے والو! تاریخ پر ریسرچ کرنے والو! یا درکھو کہ عدل اور انصاف کے پرچم کو کھڑا کرو۔