اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 193 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 193

193 ہوں گے ہندوستان کو آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کو آزاد کیا جائے مگر آزادی اس شکل میں ہونی چاہئے کہ ہمیں ہندو کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہم ہندوؤں کے مستقل غلام ہو جائیں، یہ پالیسی تھی ، یہ تھیوری تھی حضرت قائد اعظم کی۔یہی مسلک تھا جماعت احمدیہ کا۔ہمارے بزرگ احمدی جن میں کشمیر کے بھی بعض لیڈر تھے ، مجھے انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں مثلاً خواجہ غلام نبی گل کار مرحوم جو آزاد کشمیر کے بانی لیڈر تھے اور اس کے سب سے پہلے صدر تھے۔وہ صوبہ سرحد میں اس زمانہ میں گئے جس وقت کہ عبوری حکومت قائم ہوگئی اور مسلم لیگ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور جماعت احمدیہ کے تعاون سے نہ صرف مرکزی اسمبلی میں بلکہ صوبائی اسمبلیوں میں بھی بھاری اکثریت حاصل ہوگئی اور جمہوری لحاظ سے یہ ثابت ہو گیا کہ ہندوستان کے مسلمان پاکستان کو چاہتے ہیں اور مسلم لیگ ہی دراصل مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔تو گل کار صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب کا ارشاد تھا کہ سرحد میں جانا چاہئے اور وہاں چونکہ اس وقت حکومت عبد الغفار خان صاحب کی تھی۔اکثریت مسلمانوں کی تھی مگر اقتدار اس وقت کانگریس کا تھا عملی لحاظ سے۔جو جماعت احمدیہ کے وفود وہاں پر گئے تو خواجہ غلام نبی گل کار مرحوم نے مجھے بتایا کہ ہم وہاں پر Debate کرتے اور کہتے تھے کہ ہم مسلمانوں کا پاکستان لینے کا مسلک بالکل واضح ہے اور مثال یہ پیش کرتے تھے کہ دیکھو اگر ایک جگہ پر بکری ہو، ساتھ بھیڑ یا کھڑا ہو،ساتھ شیر ہو، تو کتنی واضح بات ہے بکری اس وقت تک محفوظ ہے جب تک شیر موجود ہے۔شیر ادھر ادھر ہو گیا تو پھر بکری بھیڑیے کا لقمہ بن جائے گی۔ہم یہ کہتے ہیں کہ کراؤن (Crown) کی حکومت خود اس کا Slogan ،خود اس کا نشان بھی ، ایسٹ انڈیا کمپنی کا بھی شیر تھا۔( میرے پاس تو اس زمانے کے سکے بھی موجود ہیں اور ان میں شیر ہی کا نشان ہے۔) ہم کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی حیثیت ایک بھیڑ یا بکری کی ہے۔ہندو بھیڑیا ہے اور ہمیں کھا جانا چاہتا ہے۔ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جب تک مسلمانوں کے حقوق محفوظ نہ ہو جائیں، شیر کو یہیں رہنا چاہئے اور یہ آواز ہر ایک مسلمان کی ہے کہ کانگریس ایک بھیڑیا ہے،اس سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ شیر بکری کی حفاظت کا سامان کر کے جائے۔اس کے سوا ہم آزادی کو اپنے لئے