اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 191 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 191

191 الثالث نے پیش کیا کہ یہ اس لئے کیا گیا تھا۔جس طرح کانگریس نے پارسیوں کے اقلیت ہونے کی وجہ اور حقوق کی وجہ سے اپنے موقف میں زور پیدا کیا۔حضور چاہتے تھے کہ اگر یہی Criterion ہے تو پھر برطانوی حکومت کا فرض ہے کہ پھر ہمیں بھی مسلم اقلیت میں شمار کرے اور ہم تائید کریں تا کہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے مسلم لیگی زعماء اپنی اس تحریک کے حق میں زور دار پرا پیگنڈہ کر یں۔تو یہ موقف تھا دراصل جو حضرت مصلح موعودؓ نے مسلم لیڈروں سے مشورہ کے بعد اختیار کیا۔اب ضمناً میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ملاں کی ہر بات ہی انوکھی ہوتی ہے، مثلاً ربوہ کے بننے کے بعد یہ مطالبہ کیا گیا کہ جی کھلا شہر ہونا چاہئے۔اب کھلا شہر کے معنی یہ جو Terminology ہے ان کی نگاہ میں یہ ہے کہ ایسا شہر ہو کہ جس میں ہم گالیاں دے سکیں احمدیوں کو اور لوٹ مار مچاسکیں۔لیکن جو Politically ٹرم ہے، اگر انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کو دیکھیں اس میں Open City کے ماتحت یہ معنی بیان کئے گئے ہیں کہ ایسا شہر جس کے متعلق اقوام متحدہ یہ فیصلہ کرے کہ اگر کوئی عالمگیر سطح پر جنگ ہو تو اس شہر کو بمباری سے مستثنیٰ کیا جائے۔ویٹی کن (Vatican ) اس لئے Open City کہلاتا ہے۔تو اصل معنی یہ ہیں اور ملاں Open City کو ان معنوں میں استعمال کرتا ہے کہ اس میں گالیوں کی اجازت دی جائے ، فتنہ پردازی کی اجازت دی جائے ، جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے ، لاؤڈ سپیکر لگا کر گالیوں کی اجازت دی جائے۔تو یہ عجیب وغریب بات ہے۔سبو اپنا اپنا ہے جام اپنا اپنا کئے جاؤ خوارو کام اپنا اپنا تو یہ ظالم اسلام اور ختم نبوت کا نام لے کر مغربی دنیا کی Diplomatic جو پالیسی ہے اس کی Terminology تو استعمال کرتے ہیں مگر اتنا بھی عقل اور دماغ نہیں ہے کہ اس کے معنی کیا ہیں؟ اقلیت کا بھی یہی ہے۔ہمیشہ یادرکھیں اور ابتداء میں جب اقلیت قرار دینے کی تحریک وزیر اعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ صاحب کے زمانے میں اٹھائی گئی تو انہوں نے غالباً سیالکوٹ یا پسرور میں ( دولتانہ صاحب اس وقت وزیر اعلیٰ تھے ) یہ تقریر کی کہ ان احمقوں کو یہ بھی خیال نہیں آتا کہ اقلیت