اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 186 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 186

186 نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان ނ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں بڑے طنطنے اور رعب کے ساتھ انہوں نے یہ سوال پیش کیا اور ایک بڑا مناظرانہ اور مکابرانہ انداز اختیار کیا اور تمام لوگ اس سوال سے متاثر تھے۔میں نے ان سے عرض کیا کہ میں سوال کا جواب از خود دینے کی بجائے یہ چاہتا ہوں کہ ہم دونوں محمد مصطفی کے دربار میں پہنچیں اور حضور کی خدمت میں پیش کریں اور حضور کی زبان سے جو جواب ملے، اس پر صاد کریں۔تو میں حضور نبی اکرم ﷺ کی زبان سے آپ کو اس کا جواب دیتا ہوں۔نوٹ کر لیں آپ۔آپ نے چیلنج کیا ہے کہ یہ Criterion نہیں ہے۔حدیث میں لکھا ہے کہ ایک عورت آنحضور ﷺ کی خدمت میں ایک بہت ہی وقیع اور سر بر آوردہ خاندان کی عورت تھی، پیش کی گئی جس نے چوری کی تھی یعنی اتنی چوری کہ جس پر حد جاری ہو جائے کیونکہ الشارق کا لفظ ہے۔تو اس کے ساتھ صحابہ کے بھی تعلقات تھے اور ویسے بھی ایک بہت نمایاں درجہ کے خاندان سے اس کا تعلق تھا۔صحابہ جن کی قیادت حضرت اسامہ بن زید کر رہے تھے، وہ حضور ﷺ کے دربار میں حاضر ہوئے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ! پہلی دفعہ اس نے یہ حرکت کی ہے اور عالی پایہ خاندان اور صلى الله خانوادے سے اس کا تعلق ہے۔حضور ﷺ اگر نظر کرم فرما ئیں تو اس کو بخش دیں۔اس پر آنحضور علی پر ایک جلالی شان طاری ہوئی اور حضور ﷺ نے انتہائی پر شوکت اور پر تمکنت الفاظ میں فرمایا۔" و الله لو سرقت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها (سنن النسائی کتاب قطع السارق ذكر اختلاف الفاظ الناقلين) اللہ کی قسم تم اس عورت کی بات کرتے ہو، اگر میری بیٹی فاطمہ الزہراء بھی اس جرم کا ارتکاب کرتیں لقطعت یدھا تو میں بلا تامل یہ حد اس پر بھی جاری کرتا۔میں نے کہا سورۃ الحاقہ کی آیت کی پڑھیں آپ۔لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ کے الفاظ ہیں۔وہ بھی قطع کا لفظ ہے، محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے بھی قطع کے الفاظ ہیں۔وہاں شہ رگ کے کٹنے کا ذکر ہے، یہاں ہاتھوں کے کاٹنے کا ذکر ہے۔پر ہے دونوں جگہ قطع اور لو کا لفظ تقول سے پہلے ہے اور لو کا لفظ اس حدیث میں بھی