اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 4
4 (اسی طرف حضرت خلیفہ امسح الثالث نے اپنی تقاریر جلسہ سالانہ 1965ء میں بھی ذکر فرمایا ہے۔(ملاحظہ ہو خطابات ناصر جلد اول صفحہ 23۔84) یہاں تحدیث نعمت کے طور پر یہ بھی عرض کرنا ہے کہ اس عاجز کو 1947ء میں اس پاک زمین اور قلعہ ہند کے قیام میں بحیثیت کا رکن حصہ لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے جو محض اللہ کا احسان ہے۔میرے قلم سے تحریک پاکستان اور حضرت قائد اعظم کے یادگار کارناموں سے متعلق جولٹریچر اب تک منظر عام پر آچکا ہے اس کا مفصل ذکر 1979ء میں قائد اعظم اکیڈمی کی طرف سے ” قائد اعظم محمد علی جناح - توضیح کتابیات کی دوسری جلد کے صفحہ 319 اور صفحہ 320 میں منظر عام پر آچکا ہے۔1948ء - 1949 ء کے جہاد کشمیر میں فرقان بٹالین کی شوکت کمپنی کے ایک سپاہی اور پھر لیفٹینٹ کے طور پر خاکسار دفاع پاکستان کا فریضہ بھی بجالا تا رہا۔جس پر پاکستان آرمی ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے تمغہ خدمت دیا گیا۔فرقان بٹالین کے سنہری کارناموں پر کمانڈر انچیف پاکستان نے شاندار خراج تحسین ادا کیا ہے۔فرقان مجاہدین کے یہ سنہرے کارنامے انشاء اللہ قیامت تک چاند ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔خداتعالی کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ عاجز آج سے تو فیق تعالی امام عالی مقام حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ذرہ نوازیوں اور دعاؤں کی برکت سے رہبر کمیٹی کے تیرہ تاریخی اجلاسوں سے متعلق عینی شاہد کی حیثیت سے اپنے مشاہدات اور تاثرات تفصیلی رنگ میں پیش کرنے کی توفیق پارہا ہے۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود کا ایک عارفانہ شعر ہے۔اگر ہر بال ہو جائے سخنور تو پھر بھی شکر ہے امکاں سے باہر انشاء اللہ یہ عاجز دستاویزی حقائق سے یہ بھی ثابت کرے گا کہ اسمبلی 1974ء کا ہر اجلاس قرآنی آیت وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ (النور: 56) کی عملی تصویر اور ایمان افروز نظارے بہم پہنچاتا رہا۔گل عالم نے قرآن اور حدیث رسول اور مسیح الزمان حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ اور آپ