اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 167 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 167

167 فرمائی۔(نام مجھے یاد نہیں ورنہ میں ضرور اس موقع پر بیان کرتا کیونکہ انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ میری راہنمائی کی اور کامیابیوں میں بھی بہر حال ان کا بڑا دخل ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی تربت پر بے شمار رحمتوں کی بارشیں نازل فرمائے۔) چٹھی میں یہ تھا کہ یہ آرہے ہیں تو آپ پہلے تو کولو تارڑ ان کو بھجوائیں، اس کے بعد پھر مختلف وہ جگہیں جہاں احمدی چاول کاشت کرتے ہیں، ان سے رابطہ کرا دیں۔وہاں پر میں سب سے پہلے کولو تارڑ گیا پھر اس کے بعد پیر کوٹ اور چک چٹھہ، یہ سارے علاقے چوہدری سردار احمد صاحب موبلنکے والے اور بڑے فدائی تھے احمدیت کے، میرے ساتھ تھے۔کام کے ساتھ ساتھ بعض جگہ پر مثلاً کولو تارڑ میں تو گفتگو ہوئی اور وہ اتنی کامیاب تھی کہ چوہدری فیروز محمد صاحب نے جو کہ وہاں ہمارے پریذیڈنٹ تھے ، حضور کی خدمت میں تار دیا کہ جتنے دن تک آپ کے نمائندے مولوی دوست محمد صاحب یہاں رہیں گے میں عہد کرتا ہوں کہ تین بوگیاں روزانہ حافظ آباد سے بھجواؤں گا۔اس کے بعد ہم وہاں سے چلے پیر کوٹ اور دوسری جگہوں پر۔پیرکوٹ میں مجھے اچھی طرح سے یاد ہے، وہاں پہنچے تو مجھے دیکھتے ہی پریذیڈنٹ صاحب نے کہا کہ اب مغرب کی نماز کا وقت ہے آپ نماز پڑھائیں۔نماز پڑھائی۔اور کہنے لگے اب درس بھی دے دیں۔درس دے کر میں باہر نکلنے لگا تو پریذیڈنٹ صاحب کہنے لگے کہ کوئی خاص مقصد ہے جو آپ تشریف لائے ہیں۔میں نے کہا ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کے لئے آپ نے پر الی مہیا کر ہی دینی تھی اس لئے مجھے اعلان کی کیا ضرورت تھی۔“ کہنے لگئے ”اچھا پر الی لینے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔بس میں تبلیغی لیکچر دیتارہا اور وہ پرالی جمع کرتے رہے۔میں حافظ آباد پہنچا تو ایک احراری ٹائپ کا آدمی مجھے مل گیا۔اس نے کہا کہ جی محمدی بیگم کے ساتھ بڑے معاشقے کئے ہیں مرزا صاحب نے اور وہ پیشگوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔میں نے کہا خدا کی قسم اگر مرزا صاحب کی صرف یہی پیشگوئی جو میری نگاہ میں پوری ہوئی ہے، اگر کسی غیر کے سامنے پیش کر دی جائے ، میں احمدی ہوں اگر میں احمدی نہ ہوتا تو خدا کی قسم صرف اس پیشگوئی کی وجہ سے احمدی ہو جاتا۔کہنے لگا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔میں نے کہا میں آپ کو بتاتا ہوں۔میں نے انہیں کہا