اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 152
152 میں گرفتار ہوئے ہیں۔میں نے کہا جی بڑا خوفناک جرم ہے۔رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں میں اپنا جرم تو بعد میں بتاتا ہوں اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں نے بارگاہ رسالت محمد عربی شاہ لولاک ﷺ کے حضور ہدیہ نعت پیش کرنے کے لئے چند ٹوٹے پھوٹے اشعار کہے تھے کسی زمانے میں اور میں نے اپنے امام حضور کی خدمت میں بھی پیش کئے تھے، چھپ بھی چکے ہیں۔اگر آپ مجھے اجازت دیں، پہلے وہ سنادوں۔کہنے لگے ہاں سنائیں آپ۔( دراصل اس کا پہلا جو مصرعہ ہے وہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے شعری کلام سے ماخوذ ہے ) یعنی اگر اس کو غزل کہا جائے تو مطلع کا مصرعہ ہے۔وہ چند اشعار ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں بھی میں نے سنائے تھے اور حضرت سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے بھی ان پر نظر ثانی فرمائی تھی۔بلکہ انہوں نے اس کو پڑھ کر مجھے کہا کہ تم شاعری کے متعلق کتابیں لکھنو سے صدیق بک ڈپو والوں سے منگواؤ۔وہ میں نے کتابیں منگوائی تھیں۔شاعری کی پہلی کتاب جلال لکھنوی کی تھی جن سے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے طالب علمی کے زمانہ میں اصلاح لی ہے۔تو بہت مشہور شخصیت ہیں انہی کی کتاب مجھے صدیق بک ڈپو سے ملی۔وہ اشعار یہ ہیں۔مولی میری بگڑی ہوئی تقدیر بنانے والے فرش سے عرش تلک جلوہ دکھانے والے ترے احسانوں کا ہو شکر بھلا کیسے ادا ہم غریبوں کو محمدم ނ ملانے والے ارض یثرب تیری عظمت ہیں افلاک جھکے شہ لولاک کو سینہ بانے والے اک نظر شاہد تشنہ کی طرف بھی آقا آب کوثر سے بھرے جام پلانے والے