اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 84
84 سیدی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے قلم سے ہوئی اور آپ نے ہی اس کے اختتام پر الفاظ کا اضافہ کیا۔66 نمبر 7 - حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی کتاب "القول المبین فی تفسر خاتم انبین نمبر 8 مقربان البہی کی سرخروئی یہ کتاب خاکسار نے حضرت خلیفتہ امیج الثالث کی ہدایت پر ہنگاموں کے ایام میں خاص طور پر ممبران اسمبلی کے لئے لکھی تھی اور لنڈن سے اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔نمبر 9 'تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کر دار۔یہ بھی خاکسار ہی کی تالیف ہے۔نمبر 10۔” خاتم الانبیاء۔یہ بھی حضور کے ارشاد پر میں نے مرتب کی۔اور اس میں صدی کے لحاظ سے تمام آئمہ اور محدثین اور صوفیاء نے جو معنی ختم نبوت کے کئے ہیں، وہ اس میں درج کئے اور اس میں خاص اہتمام حضور کے ارشاد پر یہ کیا گیا کہ ہر صوفی اور بزرگ کی تاریخ ولادت اور وفات بھی ساتھ ہی شامل کی گئی تاکہ پڑھنے والے یہ سمجھ سکیں کہ ہر صدی میں وہی عقیدہ قائم رہا ہے۔جس کو آج تیرہ سوسال کے بعد مسیح موعود اور آپ کی جماعت پیش کر رہی ہے۔نمبر 11۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور تحریف قرآن کے بہتان کی حقیقت یہ ایک پمفلٹ تھا جو حضرت قاضی محمد نذیر صاحب، میرے استاد کے قلم سے لکھا گیا اور وہ اس میں شامل کیا گیا۔نمبر 12۔بارہویں نمبر پر ایک کتاب خاکسار کی ” مودودی شہ پارے“ کے نام سے شامل کی گئی۔جو پہلے مولانا محمد اجمل صاحب سابق مجاہد افریقہ نے راولپنڈی سے شائع کی ، پشاور سے بھی چھپی اور اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے اس کو آفسٹ کے اوپر شائع کرایا تھا۔اور پھر اس کا بنگالی میں بھی ترجمہ شائع ہوا۔اور عجیب بات ہے کہ مولویوں نے بھی میرا نام لئے بغیر اپنے رسالے میں اس کو شائع کیا ہے۔وہ اصل رسالے میرے پاس موجود ہیں۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔مولانا صاحب! اس کے علاوہ بھی بعض اور کتب اور قلمی دستاویزات فائلوں کی صورت میں وہاں پر پیش کی گئیں؟ ہو! مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔اتمام حجت کا کوئی پہلو نہیں تھا کہ جماعت نے جواٹھا رکھا