اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 280 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 280

280 حقیقت یہ ہے کہ اس نام نہاد مسلم جماعت پر ان رعونت پسند سرمایہ داروں، جاہ پرست نوابوں اور دشمن اسلام برطانیہ کے خطاب یافتہ غلاموں کا قبضہ ہے جن کی زندگی کا نصب العین ہمیشہ سے برطانیہ اور اس کے حکام کی خوشنودی اور ان کے درباروں میں عہدہ طلبی ہے۔“ یعنی یہ سب خود کاشتہ پودا ہیں انگریز کے اور آخر میں پھر لکھتے ہیں کہ مسلم لیگ اتنی سرکش ہے کہ مسلم لیگ کے مرکزی اجلاس میں قائد اعظم کے سامنے مولانا عبدالحامد بدایونی نے قرار داد پیش کی کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ان کو مسلم لیگ سے خارج کیا جائے۔تو قائد اعظم محمد علی جناح صاحب نے یہ قرارداد پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں دی۔“ یہ حضرت قائد اعظم کا موقف تھا۔پھر حضرت علامہ الحاج مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی ناظم اعلیٰ جمعیت علماء ہند نے کیا لکھا ہے۔لطیفہ یاد آ گیا۔ایک فائیوسٹار ہوٹل میں ایک مولوی اپنا وزٹنگ کارڈ ( Visiting Card) لے کر گیا اور مینیجر سے کہا کہ مجھے اکاموڈیشن (Accommodation) چاہئے ایک دن کے لئے۔اس نے دیکھا تو بڑے القاب تھے حضرت علامہ، الحاج ، مولانا ، ملاں شیر علی صاحب چشتی اور قادری اور سہروردی اور بہت لمبے چوڑے القاب تھے۔تو وہ مینجر کہنے لگے کہ حضور بات یہ ہے۔برا نہ منائیں اتنے آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے میرے پاس۔وو تو ہر ملاں جو کہ بکا ہوا تھا اس کا نام ” حضرت“ اور ”علامہ“ اور ”الحاج “ سے کم تر لینا شرعاً جائز نہیں۔تو یہ پراپیگنڈہ (Propaganda) ہے جو دیو بند کے ان شاگردوں نے سیکھا اور کانگریس کے توسط سے سیکھا۔کانگریس کے عزائم قائد اعظم جانتے تھے یا حضرت مصلح موعودؓ کو پتہ تھا۔اب اس میں دیکھیں حضرت نے اس وقت کیا فرمایا۔بعد میں تو ” احراری شریعت کے امیر نے ایک جگہ پر کہا کہ اصل میں یہ اجتہادی غلطی تھی۔اب پاکستان بن گیا ہے تو بھی ٹھیک ہے۔یہ اجتہادی غلطی نہیں تھی۔تم زرخرید غلام تھے اس وقت کانگریس کے اور ساری عمر تم نے اس بات پر گذاری اور آج بھی گزار رہے ہو کہ جو مسلمان بچ گئے ان کو بھی ختم کیا جائے اور پاکستان کو