اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 75
75 محضر نامہ کی تیاری ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔مولانا ! جماعت احمدیہ کی طرف سے جو محضر نامہ تیار کیا گیا اس کی تیاری کن مراحل سے گذری؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔اس میں صرف میں اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اصل تو راہنمائی حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی تھی۔حضور نے اس کام کو مکمل کرنے کے لئے جو کمیٹی تجویز فرمائی اس کے سر براہ میرے پیارے آقا سیدی حضرت مرزا طاہر احمد صاحب تھے اور دوسرے ممبر حضرت مولانا ابو العطاء صاحب تھے، پھر خاکسار تھا۔محضر نامہ ایک جامع اور مختصر دستاویز تھی جو ایوان میں رہبر کمیٹی کی فرمائش پر ناظر اعلی ، صدرا انجمن احمد یہ پاکستان حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ جو ہمارے امام ہمام عالی مقام اور دین حق کی روحانی افواج کے سپہ سالار حضرت خلیفہ مسیح الامس ایدہ اللہ بنصر العزیز کے والد ماجد تھے۔ان کی طرف سے کمیٹی کو بذریعہ محترم محمد شفیق قیصر صاحب پیش کیا گیا تھا۔جس کے بعد سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نور اللہ مرقدہ نے راقم الحروف کی درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے اس کو چھپوانے کی اجازت بھی مرحمت فرمائی۔چنانچہ حضور کے ارشاد پرسیدی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ نے دفتر وقف جدید میں اپنی نگرانی میں اس کی عمدہ کتابت کروائی اور نہایت اہتمام کے ساتھ ضیاء الاسلام پریس ربوہ سے اور سر ورق نصرت آرٹ پریس ربوہ سے طبع کرایا۔یه مطبوعه محضر نامہ نیشنل اسمبلی اور سینٹ کے سب معزز ممبروں کی خدمت میں بھی پہنچا دیا گیا۔یہ محضر نامہ جس میں مسٹر بھٹو وزیراعظم اور ان کی پیپلز پارٹی اور حزب مخالف کے ارکان پر نا قابل تردید براہین اور دلائل کے ساتھ حجت تمام کر دی گئی تھی ، ہر سعید الفطرت اور حق کے طلب گار پر یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ آج صرف احمدی ہی آسمانی دفتر میں حقیقی مسلمان ہیں۔خدا تعالیٰ سے والہانہ تعلق، قرآن مجید سے وابستگی اور خاتم النبین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ سے عدیم المثال عشق اور فدائیت احمدیوں کی پہچان ہے۔وہی قرآن وحدیث ، بزرگان سلف کے بیان فرمودہ ان سب معانی ختم نبوت کو دل سے تسلیم کرتے ہیں جن سے آنحضرت ﷺ کی شان دوبالا ہوتی ہے۔مگر