اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 73 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 73

73 کارروائی کے اشاروں کے لئے لے کر جا تا تھا۔اس کے شروع میں میں نے وہ تاریخیں لکھی ہیں۔میں وہ عرض کر دیتا ہوں۔تیرہ دن تھے جن میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث پیغام حق کو پہنچانے کے لئے تشریف لے گئے۔پہلے دو دن تو 22 ،23 جولائی 1974ء کے ہیں۔جن میں حضور نے مکمل محضر نامہ پیش فرمایا اس کے بعد پھر گیارہ دن ہیں جن میں سوال و جواب ہوئے اور وہ تاریخیں میرے اس ریکارڈ کے لحاظ سے 5 اگست، 6 اگست، 7 اگست، 8 اگست، 9 اگست (9 کو جمعہ تھا لیکن کارروائی جاری رہی ) پھر 10 اگست ہے۔پھر 11 سے 19 تک وقفہ تھا۔پھر آخر میں 20 اگست، 21 اگست، 22 اگست، 23 اگست کو بھی جمعہ تھا مگر کارروائی جاری رہی اور آخری دن 24 اگست 1974ء جبکہ آدھی رات کے قریب۔تقریباً دس گیارہ بجے کے قریب، یہ کارروائی ختم ہوئی اور یہ تقریب باون گھنٹے بنتے ہیں جس میں کہ حضور پر جرح کی گئی اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی زبان مبارک پر خدا کی تائید سے،فرشتوں کی تائید سے حق و معرفت کے وہ دریا جاری ہوئے کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔یہ الگ بات تھی کہ فیصلے پہلے ہو چکے تھے۔حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔پھر 24 اگست سے 7 ستمبر تک کیا ہوا؟ فیصلہ تو 7 ستمبر کوسنایا گیا۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔یہ جو تیرہ دن تھے ان کے متعلق تو میں بتا چکا ہوں ٹکٹیں ان دنوں کے لئے تھیں ہمارے پاس۔تو میں یا وفد کے دوسرے ممبران تو ان تیرہ دنوں کے متعلق ہی کچھ بیان کر سکتے ہیں۔تو باقی کس طرح پر خصوصی کمیٹی میں سازشیں کی گئیں۔کیا انداز اختیار کیا گیا اور پھر آخر میں بیٹی بختیار نے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے پورے ایوان کو بتایا۔وہ رہبر کمیٹی اور پھر پورا ایوان اس خصوصی کمیٹی میں اکٹھا ہو گیا۔پھر خصوصی کمیٹی کی طرف سے پوری ترجمانی کرنے والے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب تھے اور ان کے بعد پھر بھٹو حکومت کی طرف سے وہ قرارداد پیش کی گئی اور پھر اس پر بھٹو صاحب نے تقریر کی۔اس کا علم تو کارروائی چھپنے پر ہی ہوسکتا ہے! ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔وہ قرارداد تو عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب نے پیش کی تھی۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔وہ میں پیش کر چکا ہوں۔قرار داد پیش کرنے والے کے لیے جو خصوصی کمیٹی کے اندر ایک کمیٹی تھی، قرارداد ان کی طرف سے پیش ہوئی تھی۔