اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 72
72 کی کتابیں بھی ہمیں دی جائیں۔یہ اسمبلی کی طرف سے مطالبہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا مکمل سیٹ حضرت مولانا عبدالمالک خان صاحب نے نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے پیش کیا اور جہاں تک محضر نامہ کا تعلق ہے، تئیس بنڈلوں میں میں نے وہ ساری کتابیں دوسرنکوں میں مولانا عطاء الکریم شاہد صاحب ابن حضرت مولانا ابو العطاء جالندھری صاحب کے ساتھ مل کر جمع کروائیں۔جب اسمبلی کے اجلاس ختم ہوئے۔فیصلے ہو گئے تو ہم کتابیں لینے کے لئے گئے تو میں نے دیکھا کہ ان کے اوپر گردوغبار پڑا ہوا ہے، جالا لگا ہوا ہے۔جب ہم مسکرائے تو ہمیں دیکھ کر کہنے لگے کہ مولانا اللہ کا فضل ہے کہ دیکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔جب اس قسم کی حالت ہو تو وہ کیسٹ ہیں یا نہیں؟ یہ ان سے پوچھنا چاہئے۔ہاں یہ بات میں بتانا چاہتا ہوں کہ ساری کارروائی میں یہ ضرور یاد رکھیں۔ایک تو میں پہلے بتا چکا ہوں اور دوسرا یہ شعر ضرور یادرکھنا چاہئے جو فیض احمد فیض صاحب کا ہے۔بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی کے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں تو وکیل بھی خود تھے۔فتنہ برپا کرنے والے بھی خود تھے۔خود ہی وکالت بھی کرنے والے تھے اور انصاف بھی کرنے والے تھے۔کارروائی کا مختصر خاکہ حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا صاحب! اسمبلی کی کارروائی کے آغاز سے آپ اگر مختصراً ہمیں ایک Outline بتادیں کہ تیرہ ن میں کیا کیا ہوا محضرنامہ جماعت کی طرف سے پیش کیا گیا پھر اس کے بعد سوال و جواب ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث پر۔تو اگر دنوں کے حساب سے ہمیں ایک Outline بتادی جائے تو سہولت رہے گی۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔تاکہ پھر ہم اس کے مطابق سوالات کر سکیں۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔میرے پاس وہ کاپی ہے جو میں سوالات کے لکھنے اور