اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 71 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 71

71 نشر کر دیں گے۔اب زمانہ پڑھنے کا اتنا نہیں رہ گیا سنے کا زمانہ زیادہ ہے۔تو خدا کرے کہ وہ بھی دنیا کے سامنے آجائے۔کارروائی کے ریکارڈ کی موجودہ صورتحال ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔1974ء میں جو کارروائی ہوئی وہ In Camera یعنی خفیہ ہوئی ، کیا اس کی ویڈیوٹیپ یا آڈیو ٹیپ، حکومت کے پاس موجود ہیں اور کیا جماعت احمدیہ کو ایسا حق دیا گیا تھا کہ وہ بھی اس کو ریکارڈ کر سکے۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔جماعت احمدیہ کو ہر حق سے محروم کیا گیا تھا۔میرے پاس کا پیاں موجود ہیں۔مجھے صرف یہ اجازت تھی کہ جو اعتراض کیا جائے وہ میں ان میں لکھوں تا کہ حضور کی خدمت میں اس کے مطابق حوالے اور اصل کتابیں پیش کر سکوں اور حضورا گلے دن اس کا جواب دیں۔اس کے سوا کسی قسم کے ریکارڈ کی ہمیں اجازت نہیں تھی۔وہ ریکارڈ جو انہوں نے کیا اور اپنے پاس رکھا پھر بھٹو صاحب کے زمانے میں ایک اعلان کیا گیا کہ ظفر انصاری صاحب کو مقرر کیا گیا ہے کہ اس کو دوبارہ صاف کر کے اور غلطیاں ٹھیک کریں اور پھر اس کی اشاعت کا سامان کیا جائے۔تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجھے ارشاد فرمایا کہ پیکر کے نام چٹھی لکھی جائے کہ جماعت احمد یہ اس میں فریق ہے اس واسطے یہ جب Revision کی جائے تو اس میں ہمارا نمائندہ بھی ہونا چاہئے مگر آج تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ان کے پاس آڈیو کیسٹس موجود تھیں۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔جو کیسٹیں تھیں اب ہیں یا نہیں ہیں؟ یہ تو اب اسمبلی کے رہنے والے ہی جانتے ہیں کیونکہ مقصد تو عوام کے نام پر احمدیوں کے خلاف ایک نیا کلمہ بنا کر ملا کے ظلم و ستم کو قانونی تحفظ دینا تھا۔اس کے سوا تو کوئی بات نہیں تھی تو انہیں اس سے کیا دلچسپی ہو سکتی تھی کہ وہ قائم رہے یا نہ رہے بلکہ جیسا میں نے اشارہ کیا ہے کہ محضر نامہ جب لکھا گیا تو یہ حکم تھا کہ آپ اپنا کیس پیش کریں اور ساتھ کہا کہ ہم اس کو دیکھیں گے۔ہر کتاب اصل بھی ساتھ ملنی چاہئے۔جس کتاب کا حوالہ ہے خواہ ایک سطر بھی ہے۔وہ بھی ساتھ رکھی جائے۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود