اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 69 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 69

69 69 انہوں نے لفظاً لفظا دے دیا ہے کیونکہ وہ چیز Totally جماعت کے خلاف تھی۔باقی سارے حصے میں ہر چیز کو سخ کیا گیا ہے۔حالانکہ فل سٹاپ، سیمی کولن، Punctuation جو ہے اس کا خیال رکھنے کے نتیجے میں مضمون الٹ جاتا ہے۔بڑی مشہور بات ہے آپ اگر ایک بات پر فل سٹاپ لگائیں کہ روکو۔مت جانے دو۔اگر روکو کے بعد (۔) ڈیش کو Omit کر دیں اور مت کے بعد اضافہ کریں تو بنے گا کہ روکو مت۔جانے دو۔مضمون بدل جاتا ہے۔تو تحریر تو ایسی چیز ہے کہ Punctuation میں سے سیمی کولن ، فل سٹاپ کسی کو بدلنے سے مضمون ہی بدل جاتا ہے۔اور یہاں تو یہ ہے کہ جو لکھا گیا وہ خلاصہ تھا۔لکھنے والے قرآن سے ناواقف تھے۔لکھنے والے حدیث سے ناواقف تھے۔لکھنے والے حضرت مسیح موعود کے کلام سے ناواقف تھے۔عربی عبارتیں کہاں جانتے تھے۔قرآن کہاں جانتے تھے۔یہ تو صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے اور بتانے کے لئے کہ ہم نے تو جمہوریت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ہم ہیں جو کہ جمہوریت کے چیمپیئن ہیں۔یہ سارا قصہ تھا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ان سرکرز میں میری نظر سے ایسا بھی گزرا ہے کہ جہاں بعض جگہ عربی عبارت نہیں لکھ سکتے تھے اور وہ نابلد تھے تو لکھ دیا کہ آگے عربی“۔اصل حوالہ کو مکمل طور پر Omit کر دیا گیا۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔آپ اس کو دیکھیں اول تو پتا چلے گا کہ انتہائی ناقص خلاصہ ہے۔جس میں قرآن کو بدل دیا گیا۔محمد رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو بدل دیا گیا۔ایسے گستاخ لوگ تھے یہ جنہوں نے مرتب کیا۔اس کو لے کر جن لوگوں نے شائع کیا ہے کہ ہم نے یہ اسمبلی کا نچوڑ نکالا ہے وہ اس میں رد و بدل کر کے، اضافے کر کے ع کچھ بڑھا بھی لیتے ہیں زیب داستاں کے لئے اس کو بہت بڑھایا اور جو اصل حقیقت تھی اس کو بالکل ختم کر دیا اور دنیا کو یہ بتایا کہ دیکھیں مرزائیوں کے جو لیڈر تھے انہوں نے اسمبلی میں جو کیس پیش کیا اس میں وہ نا کام ہو گئے۔حیرت آتی ہے کہ کس قماش کے انسان ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کیا گیا۔(انا لله و انا اليه راجعون)