اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 67
67 اس وقت میرے دل و دماغ پر حضرت مصلح موعودؓ کا یہ شعر آ گیا۔عشق خدا کی مے سے بھرا جام لائے ہیں ہم مصطفی کے ہاتھ اسلام لائے ہیں حکومت پاکستان کے شائع کردہ سرکلرز اور ریکارڈ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ سرکلر کل کتنے صفحات پر مشتمل تھے جو حکومت پاکستان کی طرف سے اراکین اسمبلی اور سینٹ کو دیے جا رہے تھے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔یہ ایک ہزار دوسوستر صفحات پر مشتمل ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اور کیا یہ سرکلر بعینہ اسی گفتگو پر مشتمل ہے جو وہاں پر کی گئی۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔بات یہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ پر فرمایا تھا کہ ایک شخص اپنے آقا کے ساتھ جارہا تھا۔اس کا مالک گھوڑے پر سوار تھا۔گڑھا آیا تو وہ گر پڑا تو اس نے آواز دی کہ مجھے اٹھا لو۔اسی وقت اس نے جیب سے ملازمت کے جو شرائط تھے وہ پیش کئے کہ حضور اس میں یہ نہیں لکھا کہ جب آپ گر جائیں تو پھر آپ کو اٹھانا بھی میرے فرائض میں شامل ہے۔تو یہ سارے کام For The Purpose Of The Law‘ نہیں تھے بلکہ اپنے اقتدار کی خاطر ہو رہا تھا۔دنیا میں دراصل ڈھنڈورا پیٹنا تھا اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اس کے اوپر یہ ریمارکس دیے تھے کہ پنڈت نہرو کے مرنے کے بعد بھٹو صاحب کے دل و دماغ پر یہ خواب تھا کہ اب مجھے South Asia کا لیڈر بننا چاہئے۔اور وہ چاہتے تھے کہ میرے عہد حکومت میں جو پہلا آئین تیار ہو وہ بالکل متفقہ اور متحدہ ، Unanimously ہو۔تو ہر بات وہ اس رنگ میں کرتے تھے۔یہ چیز تھی جو وہ دنیا میں بتانے کے لئے کر رہے تھے کہ ہم ڈیموکریٹک پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔حکومت یہ سرکلر ز لکھتی تھی مگر ایک تو وہ بھی خلاصہ ہوتا تھا۔آپ اس کو پڑھیں تو حیرت آتی ہے کہ قرآن کی آیتیں اس میں غلط ، حدیثیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتوں کی عبارتیں غلط۔حالانکہ سوال کیا گیا اور جو اشتعال پیدا کرنے کے لئے فتنے برپا کئے گئے۔ان میں یہ بھی تھا کہ ”مرزائی قرآن مجید میں تحریف کر رہے ہیں۔لیکن آپ اگر دیکھیں تو قرآن کی آیتیں