اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 65 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 65

65 مولانا دوست محمد شاہد صاحب: حق یہ ہے کہ خود بھٹو حکومت کی طرف سے سرکلرز کی شکل میں یہ روداد شائع کی جاتی رہی اور سینٹ اور قومی اسمبلی کے ممبروں کو با قاعدہ بھجوائی جاتی تھی۔پابندی صرف یہ تھی کہ احمدیوں کو پتہ نہ لگے۔جس طرح یہ پابندی تھی کہ جو وہاں پر روداد پیش کر رہے ہیں نہ وہ پریس میں جائے اور نہ احمدی اس کو ریکارڈ کریں۔اسی طرح یہ جو شائع کی گئی وہ اس طریقے پر شائع کی گئی کہ اپنوں تک تو پہنچے اور احمدیوں کو خبر نہ ہو۔مگر احمدیوں کی عظمت شان یہ دیکھیں کہ جب محضر نامہ کے متعلق بھٹو حکومت کی طرف سے درخواست کی گئی کہ آپ محضر نامہ بھجوائیں اور اس کے بعد ہم Cross Questions کریں گے۔کتاب تاریخ انصار اللہ جو مکرم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب کی ابھی حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے، اس میں بیان ہے کہ حضور رحمہ اللہ سے پہلے کہا گیا کہ آپ محضر نامہ بھجوائیں۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا ہم پر بجائے اس کے کہ وہاں جرح کی جائے ، آپ ایک دن پہلے سوال بھجوا دیا کریں۔ہم آپ کو جواب دے دیا کریں گے۔میں کوئی سلسلہ کے لٹریچر کا حافظ نہیں ہوں۔تو اس طرح بڑی آسانی کے ساتھ آپ کے سوالوں کا جواب آ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نہیں محضر نامہ بھی لکھ کر بھجوائیں اور پھر محضر نامہ کے ساتھ جو کتابیں ہیں وہ بھی ہمیں پیک (Pack) کر کے بھجوائیں اور اس کے بعد ہم Cross Questions کریں گے۔اب آپ سے میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی عظمت شان یہ تھی کہ محضر نامہ حکومت کے کہنے پر لکھا گیا اور اس کو شائع کیا گیا اور شائع کرنے کے بعد سید نا حضرت خلیفہ اصبح الثالث کے ارشاد کے مطابق وہ محضر نامہ جماعت احمدیہ نے سوائے سینٹ اور قومی اسمبلی کے ممبروں کے کسی کو نہیں دیا۔حتی کہ ہم لوگ جو ڈیلی گیشن میں شامل تھے، کو بھی نہیں دیا گیا۔حضور کے پاس تھا۔اس حد تک جماعت نے اہتمام کیا کہ کوئی بھی ایسی صورت نہ ہو کہ فضا میں جو پہلے ہی اشتعال پیدا کر دیا گیا ہے مزید مکر رہو جائے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔مولانا صاحب! یہ ابھی آپ نے فرمایا ہے کہ بھٹو حکومت کی طرف سے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی بلکہ سرکلر ز تو خود حکومت نے شائع کروائے تھے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔وہ سرکلر ز خود شائع کروا چکے تھے مگر چاہتے یہ تھے کہ یہ شائع