اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 58 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 58

58 فرماتے تھے؟ حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔بلا یا کس طرح جاتا تھا جیسا آپ نے فرمایا کہ حضور ا نتظار بھی مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور کے قافلہ کا ایک وقت معین تھا۔اس موقع پر اس وقت کی گورنمنٹ کی فورس بھی ساتھ ہوتی تھی یعنی فیڈرل سیکیورٹی فورس۔جماعت کے والنٹیئر بھی ساتھ ہوتے تھے اور ہم اس خاص معین وقت میں جبکہ اسمبلی کا اجلاس یا رہبر کمیٹی والوں کے اپنے اجلاس روزانہ ہوتے تھے تو ان اجلاسوں میں ہم شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ہماری شمولیت کا وقت تو اس وقت ہوتا جب خصوصی کمیٹی والے پسند کرتے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کو بلایا جائے۔پھر ان کا کورم بھی پورا نہیں ہوتا تھا۔چالیس کی تعداد ہوتی تھی۔ان کا کورم پورا ہونے تک ہمیں انتظار کرنا پڑتا تھا۔پھر جب کورم پورا ہو جاتا بعض اوقات ایک ایک گھنٹہ تک بیٹھنا پڑتا تھا۔جب یہ محافظین ختم نبوت پہنچتے۔چالیس کی تعداد پوری ہو جاتی تو اس کے بعد پھر ہمیں اطلاع آتی کہ چیئر مین صاحب آپ کو یاد کر رہے ہیں۔تو یہ کمیٹی روم نمبر 2 میں انتظار کرنا پڑتا تھا اور ٹکٹ میں نے بتایا ہے کہ ہر ایک کو الگ الگ دی گئی تھی۔بڑی احتیاط کی گئی کہ ایسا نہ ہو کہ حضرت میاں طاہر احمد صاحب کی جگہ کوئی اور آ جائے۔تو بہر حال بڑی احتیاط کی گئی یعنی ” تقومی کی بڑی باریک راہیں تھیں۔“ 66 مجھے اجازت دیں ایک چھوٹا سا لطیفہ ضرور سنانا چاہتا ہوں۔یہ احتیاط اور تقویٰ کی باریک را ہیں یہ ساری اس دہشت گردی میں اول سے آخر تک اس وقت بھی شامل تھیں، آج بھی شامل ہیں۔بات یہ ہے کہ ایک دیو بندی ملا کے متعلق یہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ اس نے صبح کے وقت نماز پڑھا کر لاؤڈ اسپیکر پر Volume Full تھا۔درس دیا اور درس میں بڑی گالیاں دیں بریلوی حضرات کو اور اس کے بعد کہا کہ چلو جہاد کرنے کے لئے۔خیر سارے سامعین بھی ساتھ ہو گئے۔ساتھ ہی دوسری مسجد تھی بریلوی حضرات کی تو وہ امام باہر نکلا کہ اس کا گھیراؤ ہو گیا۔اس نے گالیاں دینی شروع کیں۔کچھ نے مار پیٹ شروع کر دی لہو لہان کر دیا۔تو ایک بریلوی بزرگ نے کہا کہ کچھ خدا کا خوف کرو۔رمضان کے ایام ہیں اور تم نے یہ دنگا فساد شروع کیا ہے۔دین ملا فی سبیل اللہ فساد۔تو رمضان کا تو احترام کرنا چاہئے تمہیں۔اب اعلیٰ حضرت نے کیا جواب دیا ( بریکٹ میں کہنا چاہئے جو تقویٰ کی باریک راہوں کا ایک شاہکار تھا۔)