اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 56 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 56

56 موجود تھیں۔پہلی دفعہ میں نے برقی سیڑھیاں یہیں دیکھیں اور حضور کی قیادت میں جو وفد تھا وہ کمیٹی روم نمبر 2 میں پہنچتا تھا اور پھر وہاں سے ہمیں چیئر مین صاحب کی طرف سے اطلاع آتی کہ اب آپ آجائیں۔کارروائی جو ہوئی جیسا کہ میں نے بتایا کہ ان کیمرہ In Camera یعنی خفیہ تھی۔عجیب بات ہے کہ ختم نبوت کا تحفظ ہورہا ہے اور ان کیمرہ ہو رہا ہے۔پہلے دن سے ہی یہ حیرت آتی تھی کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اس طرح چھپانے کی کیا بات ہے۔اس کو کھلا ہونا چاہئے تھا۔کارروائی اوپن (Open) ہونی چاہئے تھی۔جس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثالث وہاں پر تشریف لے گئے ہیں۔شدید گرمی کے ایام تھے۔جولائی اگست کے ایام تھے۔22 جولائی سے لے کر 24 اگست تک آپ تشریف لے جاتے رہے ہیں۔شدید گرمی کے ایام تھے اور اس وجہ سے ساتھ ایک تھرماس کی بوتل بھی ہوتی تھی جس میں پانی تھا اور سبز چائے تھی۔دراصل اس میں پانی تھا اور کوئی چیز نہیں تھی۔یہ جو مختلف کتابیں لکھنے والے ہیں اسمبلی کے متعلق۔انہوں نے بڑا مذاق اڑایا ہے تو میں اس وجہ سے بتاتا ہوں کہ اس وقت جو چیز ساتھ جاتی تھی ان میں حضرت خلیفتہ مسیح الثالث کا ایک تو قرآن مجید جو ان کو مصر کی جماعت کی طرف سے تحفہ ملا تھا، پہلی دفعہ آکسفورڈ جاتے ہوئے 1934 ء میں، دوسرا قرآن مجید کا انڈیکس، تیسرا در تین عربی، درشین فارسی ، در تشین اردو اور ساتھ یہ سبز چائے والا تھر ماس۔یہ ساری چیزیں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع سیدی طاہر کے پاس ہوتی تھیں۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کے پاس ان کی کتاب تفہیمات ربانیہ تھی۔حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کے پاس تحقیقاتی عدالت 1953ء کی رپورٹ“ اور باقی چونکہ ذمہ داری حوالوں کے نکالنے کی اور کا پیاں لانا، کتابیں دکھانا اور اس کے علاوہ اعتراضوں کے جواب کے سلسلے میں اخبارات اصل پیش کرنا۔اس لئے تین ٹرنک میرے پاس ہوتے تھے۔یہ میں نے ضمناً بتا دیا ہے کہ یہ صورت تھی۔باقی میں یہ بتارہا تھا کہ وہ پرائیویٹ طور پر ان کیمرہ کارروائی ہوئی تھی اور یہ اس ان کیمرہ کارروائی میں عجیب بات یہ کہ بہت ہی محتاط طریقہ اختیار کیا۔ایک تو ان کیمرہ تحفظ ختم نبوت کے لئے