اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 47
47 قومی اسمبلی میں پیش کردہ قراردادیں ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔مولانا! ہم یہ پوچھنا چاہیں گے کہ یہ ایک ہی قرار داد تھی یا اپوزیشن کی طرف سے بھی کوئی قرار داد پیش کی گئی تھی۔۔؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔اپوزیشن کی طرف سے بھی قرار داد تھی لیکن پھر چونکہ رہبر کمیٹی میں اپوزیشن لیڈر مفتی محمود صاحب آگئے اس وجہ سے اس کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ تو اپناسہرا باندھنے کے لئے تھی نا اور نہ انہیں بھی پتا تھا کہ پیپلز پارٹی تو اپنی قرارداد کو ہی پیش کرے گی۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ قرار داد کس نے پیش کی تھی اور اس کے محرکین کون کون سے تھے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔پیش کرنے والے تو جناب عبد الحفیظ پیرزادہ وزیر قانون تھے۔اور ان کے ساتھ دستخط کرنے والے مولانا مفتی محمود صاحب جمیعت علمائے اسلام کے سر براہ ، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی صاحب جمیعت علمائے پاکستان کے، جناب پروفیسر غفور احمد صاحب جماعت اسلامی کے راہنما، جناب غلام فاروق صاحب، جناب چودھری ظہور الہی صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ، جناب سردار مولا بخش سومر وصاحب، یہ تو محرکین تھے۔لیکن میں اس موقع پر مزید ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں۔وہ بات یہ ہے اور بڑی حیرت کی بات ہے کہ یہ قرارداد جو پیش کی گئی اس میں سب سے زیادہ پُر جوش مفتی محمود تھے، دیو بندی عالم۔حالانکہ بانی دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے 1880ء میں یعنی جماعت کے قیام سے بھی نو سال پہلے ، ان کی وفات بھی 1880ء میں ہوئی ہے۔اور ” تحذیر الناس“ بھی اسی زمانے میں سرکار پریس سہارنپور سے چھپی اور مختلف ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔میرے پاس اس کے تقریباً دس ایڈیشن موجود ہیں اس میں آپ نے لکھا ہے کہ عوام تو یہ سمجھتے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں مگر یہ عوام کے معنی ہیں۔کیونکہ آخر میں آنا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔( مثلاً آپ دیکھیں بہادر شاہ ظفر۔یہ میں مثال دے رہا ہوں ضمنی طور پر۔یہ آخری بادشاہ تھا تو یہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ معزز ہے؟ جس نے مغلیہ خاندان کا بیڑہ غرق کر دیا۔