اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 586 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 586

586 ۴۱۹ به حضرت مره رجب اور میں پیدا ہوئے اور گیارھویں ذی اسلام کو خلافت حاصل کی اُن حضرت کی وفات بھی نہیں ہوئی اس سے مرفوع علم نہ آئی بادشاہ کور نے ستائیس سال چند ماہ سلطنت کی اور بادشاہ کے نام سے اس عالم میں موسوم رہا لیکن پندرہ برس تک یہ بادشاہ مع متعلقین کے وصیت نامہ کا پابند ر ہا ہی اس کے بارہ برس تک میں متعلقی کے طاعت وصیت نامہ سے اکرات کیا اور جانگ امر سردری صادر ہو چکا تھا کہ مسلسلات انمت نوم فرنگ کے باقی رسیلی الوی بادشاه مذکور کو سردار صفیہ موصوف نے قدیم سے معزول یعنی ہلاک نہیں کیا صرف کثرت فسق ونجور دیگر جدید سے معربا کر دیا اور بموجب فرمان حضرت علو العزم و المرتبہ سابر یہ قادریہ نظامیہ کے حضرت عبدالرشید صاحب سرد اراکبر صفیہ عرب و جم کو ہر سال اسکی کیفیت سو اطلاع دیتے رہے۔وہاں سے ہر سال ہی حکم صادر ہوتا تھا کہ ظاہر سے ہدایت کردیا کرو اور ہر قطب پہلی ہر روز بادشاہ کے احوال کو معرفت ابدال درجہ اول کے حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ ہی کے حضور میں عرض کرتا رہتا وہاں سے ہر دور کم ہوتا کہ یہ بادشاہ دا طریق ہے اور مجھ کو اپنے اولیا کی خاطر منتظری شاید یہ اپنی حرکات ناشایستہ سے کل باز آجائے حتی کہ بارہ برس تک مہلت دی کہ اس عرصہ میں راہ راست اختیار کرے اگر اس نہات میں بھی یہ بادشاہ اپنی حرکات سے باز نہ آوے تو اس مصیبت زدہ کو مع متعلقین کے حضرت سلطان نظام الدین محبوب التھی کے سپرد کر دیا جائے اسکو اختیار ہے کہ و چاہے کرے آخرالامر جیب بادشاہ مذکور نے بعد انقضائے بدت بارہ سال کے راہ راست پر قدم نہ رکھا تو سلام میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلطان سید نظام الدین محبوب کسی کے اُس کو سپرد کردیا ان حضرت نے حضرت بادشاہ دو جہاں محدود معلاء الدین علی احمد صابر صاحب ختم اللہ ان ارواح سلطان الاولیا قطب عالم اعیات بند مرا در رفیق طریق حقیقی اپنے کے تفویض کیا ان حضرت نے اپنے خاندان کے علو العزم المرتبہ مرفوع الاجازت حضرت شاہ امیر شاہ صاحب قد ابلے ارشاد کو مطلع فرما یا ان حضرت معرفت ابدال درجہ دوم کے حکمنامہ پانی پاس سردار حنفیہ حضرت عرب من صاحب آگے جاری کردیا اور میعاد بھی مقرر فرما دی کہ اس عرصہ میں کیمینا دوں کے چند ہزار چند صد و چند نفر سختی کے ساتھ مکہ متلی قدیم لعنتی قدیم سے معزول بھی ہلاک گر جائیں۔اور بادشاہت باتحت فرنگ بھی موقوف کر کے قوم فرنگ مستقل حکمراں کر دیجائے کہ زمانه امام مهدی علیه السلام کا قریب؟ کفر تونی پکڑے تو کچھ مضائقہ نہیں ہے لیکن خلق اللہ ظلم سے محفوظ رہے اور فق و فجور کی سزائے کامل حضرات اقطاب اغیاث حدہ دھرے بیجھ دیا کریں گے اور ہر زمانہ کے علو العزم والمرتینا شہنشاہ ولایت سے اس کا عہدہ مقرر ہو جائے گا کہ فلاں قطب عالم اغیاث ہند کے تحت حضرات اقطاب اغیات و لقبا و یکجا و رقبا در یون و اولاد عشقوش و جماعت رجال الغیث اولا د فردی جوشش ہیں اور فلاں نام کے فلاں فلاں مقام میں مقرر ہے اور ان نو جماعتوں کا عالی سلسلہ حنفیہ کے بیان میں اول تحریر ہو چکا ہے العرض کی انجری مطابق شهردار تک بہادر شاہ بادشاہ کا ہو جب جسم مروری انتظار کیا گیا ۱۳۷۳