اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 585
585 احدیت صرفہ میں وصال فرمایا اور میں شاہ جارج چہارم نے دس برس حکومت کر کے قضا کی یہ بادشاہ اول تو باشند وصیت نامه کار را بعد کو آخرت کی عیاشی میں بکثرت مصروف ہوا یہ دیکھکر اور سردار منفی عر نے اسکو قدیم سے عربی یعنی ہلاک کرکے اسکی بگشاہ ولیم چہارم کرانا اگلتان پر جاکر اس کام مطابق شام میں اس کا جاریس کرا دیا اور معرفت ابدال کے حضرت شاہ محمد امیر شاہ صاحب تغب الارشاد صابر یہ قادریہ نظامیہ کو اطلاع دی ان حضرت نے بقاعده بانی وصیت نا متضمن ہدایت و عدالت رعایا پروری ارقام فرما کرائی ابدال کے ہاتھی حضرت عبد الرشید صاحب سردار اکبر صفیہ عرب ٹیم کے پاس روانہ کیا ان حضرت نے حکیم منظوری بادشاہ مذکور کا ان سے حاصل کر کے قطب لندن کے پاس بھیجیا اور شب کے وقت لندن کے قطب نے اپنا قوت روحانی جاذبہ سے وہ صیت ۱۲۵۳ نامه بادشاہ کو شناکر اس کا پابند کرا دیا بادشاہ نے وصیت نامہ کا اقرار کیا اور آٹھ برس عمدہ طور سے سلطنت کر کے مر گیا۔بجائے اس کے ملک کوئن وکٹوریہ کو سردار صفیہ عر بے تخت انکل ان پر شکن کیا اور کام مطابق ۶۱۸۳ میں جلوس کرو اگر معرفت ابدال کے حضرت شاہ محمد امیر شاہ صاحب قطب الارشاد صابر یہ قادریہ دنظامیہ کو اطلاع کی ان حضرت نے وصیت نامہ اس مضمون سے کوخلق اللہ ظلم من ارقام فرماکر امی ابدال کے ہاتھ سردار حسینیہ ور کے پاس روانہ کیا ان حضرت نے منظوری بادشاہت میں وصیت نامہ بذریعہ ابدال کے حضرت عبدالرشید صاحب سردار گبر حنفیہ عرب عجم کے پاس ارسال فرمایا ان حضرت نے حکم منظوری ملک کوئن وکٹوریہ کا ابٹن سے نافذ کرا کر قلب لندن کے پاس بھیج یادہ کم پانی کے موافق ملک موصوفہ کو سلطنت کرانے لگا اور اپنی قوت روحانی جاذبہ سے ملکہ مذکورہ کو حیات سنا دیا اور تبصرت بالمنی انصاف و عدالت کا وعدہ کرا یا یک شام میں ابو النصر مین الدین محمد اکبر شاہ نے نہیں ہیں ایتخت بادشاہ انگلستان کی بادشاہت کر کے قضا کی اور اسوجہ سے کہ مرنے چار برس قبل حضرت شاہ محمد امیر شاہ مینا قلب الارشاد مروح کی غلامی میں داخل ہو گیا تھا۔یا ایمان دنیا سے گیا اور خاتمہ بخیر ہوا حضرت شاہ محمد عبد اللہ منا سردار مفید حجم نے بادشاہ مرحوم کی جگہ ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ بن اکبر شاہ کو مقرر کیا۔میں بمقام دہلی جلوس کرا کر معرفت ابدال کے حضرت شاہ محمد میر شاه صاحب صابر به قادر به فنا سید کو طلا کی ان حضرت نے ویت نام مرور بال اتار کار کی ہداں کے ہاتھ سرا نفی ہونے کی اس بیا تا ان حصر نے وصیت نامہ نیا بور بادشاہ ذکور که اگر با بند دمیت کا ر ی به یاد شاه مذکور کو اقرار اور پابندی وصیت نامہ کے احوال و معرفت بال کے نی اری افرنگ منوی بادشاه نور الامام ما در کار را بدال در بالا توسط سے حضرت علو العزائم المرتبہ صابری قادری کے بھیج دیا اُن حضرت نے قلب پلی کے پاس مرسل کیا وہ اس سرور کیا پابند ہو گیا اور ابوظفر کو ماتحت قوم نصاری کے بادشاہت کرانے لگا۔اور بادشاہ وصیت نامہ کایا بند ہو گیا ہے میں ہے حضرت شاہ محمد عبد الرحماد نے مشی گنگوہی سردار حنفیہ نے رحلت فرمائی اور بجائے آپکے حضرت عرس من نایی