اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 572
572 سوسائٹی کا ماحول یا تنگ ہے مرد ان مسمانوں کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ہندو والی حیثیت میں بہترین انسان ہے لیکن عجیب بد نصیبی ہے کہ یہی مرنجان قراد جیب جماعتی حیثیت میں سمجھتے ہیں تو مسلمان کی جان رحیران ہو جاتی ہے۔وہ ہمیشہ مسلمان سے پیلیاں رہ گیا رکھ کر سوچتے ہیں مسلمان بایں ہمہ رہ کر بھی ہے یہاں سانحہ مں کرتا ہے۔ہندہ یہ بھی قیاس ہی نہیں کرتا کہ اس کے طرز عمل کا کوئی یہ دلیل بھی ہو گا یا ہو سکتا ہے علیحدہ انتخاب اور علیحدہ گھر تیار نہ ہونے کا آخری چاند کا ر اکثریت اپنی تنگ دلی سے دور ہے پر عزت کی کوئی راہ باقی نہ رکھے تو یہ کھلا کر بھاگ کھڑے ہونے کے سوا چارہ کار کیا ہے۔پاکستانی غریب در اصل بند و سرمایہ دار سوسائٹی کے طرز عمل سے ہو کھایا کہ بھا گیا ا مسلمان اچھوت ہے۔چاہتا ہے مرنے پھرنے کے لئے کوئی کو نا مل جائے جہاں وہ مام سے پیار ہے، البتہ یہ قسمت کی ستم ظریفی ہے گروہ مسلمان سرمایہ دار کے ہتھے چڑھے گیا ہے جو مہند و سود خواس سے ٹھنڈا کر مسلمان کی جاگیر داری میں پھنسانا چاہتا ہے مندر دشمن بن کر روتا ہے۔یہ دوست بن کر گلا کاٹے گا۔فرض اکھنڈ بند دستان اور اس پاکستان میں دونوں جگہ بیچارے مسلمان کا کونڈا کونڈا ہوگا۔نوانے اور ایک ایدار اس پاکستان کو پلیدستان بکھتے ہیں، جہاں امری بھوک کر چوہان سے بڑھاتے ہوں۔اور غریب غم کھاتے ہوں جہاں ایک طرف ایک منہ کے لئے سینکڑوں بیسیوں روتا ہے ہوں اور دوسری طرف جہاں سردیوں میں جنگوئی سے بھی تخلف با من زندگی ہو۔اردوم کے آنے جانے پر ہی زندگی کا قیاس ہو جنہیں آپ کسی غریب ہمسایہ کی افسردہ میں اللہ انہدہ شاہیں دیکھے کرید کرنے کا خیال نہیں وہ کسی حصے کو صحیح معنوں میں پاکستان کیا بنائیں گے۔پاکستان کے خیاتی مدور میں پھیلانے اور اس کا اقتدار جانے کے لئے بے آب ہوں گے کانگریس اور لیگ کی سرمایہ دارا پیشکش میں غریب کا بھلا ہے۔انہار کسی کے طرق اء تہ ہونا۔بلکہ ان کی اس جنگ زرگری کی طوالت کے لئے دعا مانگتا اور اس سے نہ ختم ہونے کی آرزو کرتا۔سرمایہ دار جب تک آپس میں دو دو ہاتھ دکھاتے رہیں گے تب تک نظر یہاں کی گلو خلاصی رہے گی۔اعداد و دست تو جنگ تک کے اس سیاسی نبود تحصیل کے زمانے کو غنیمت جانو اور جماعت کے نظام کو اور مضبوط کرد ایلینگ اور کانگریس کی جنگ در سرمایہ دار طبقات کی جنگ ہے اس سے دامن بچائے۔پروگرام پر نگاہ رکھو انتہاد کے سنگ دل اور مشتعقب فرقہ پرست تمہیں فرقہ پرست کہیں گے ان کے کی کیوں نکرد کتوں کو بھونکنا چھوڑے کا زمان جسر الر کو اپنی متوال کی حروف چلنے اور اسمار کیا دین ننگی سرمایه داری کا پاکستان تمہیں یہ کالم مینی کا اسکن و منور استارتا ہے کے در سرزمین ہے جہاں ! سوسائٹی میں درجے نہ ہوں بلکہ انسانیت ایک رہے ہو۔احرار کا وطن وہ ہے جہاں کوئی اچھوت نہ میں جہاں انسانوں کو ذلیل رکھنے والے الیل مجھے جائیں۔۔جہاں نظر مولی کو لوٹنے والے لوٹ لئے جائیں۔اور لوگوں کو کام پر لگا کر ان کی ضرورتوں کے مطابق معیشت مہیا ہو۔مہ جہالہ ہر کوئی اپنے مذہب انسانی تہذیب کے مطابق ترقی کرتے میں آزاد ہو۔ہ یہاں نظام حکومت کامل مساوات پر قائم ہو اندر جہاں سرمایہ نظام کی طرح