اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 555
555 علم کلام مرزا ۶۴۰ قُل إنما أنا بشر مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى انا الحلمُ الهُ وَاحِدٌ ( ع ) اے پیغمبر کہ دو کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں بشر ہوں میری طرف وحی آتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہے " مگر مرزا صاحب کے علم کلام میں خدائے احتدا در حضرت احمد میں فرق نہیں ملکہ در اصل دونوں ایک ہیں۔چنانچہ آپ کا شعر ہے ہے شان احمد را که داند جز خدا وند کریم آنچنان از خود جدا شد کز میاں افتاد میم ( توضیح مرام صلا) (ترجمہ) حضرت احمد کی شان خدا کے سوا کون جانتا ہے۔وہ ایسے ہیں کہ اپنی ذات سے جدا ہوئے ہیں درمیان میں میم آگئی ہے یہ یعنی احمد در اصل احد ہے۔احد سے جدا ہوا تو درمیان میں ٹیم آگئی۔مرزا صاحب نے ان دو شعروں سے یہ عقیدہ اخذ کیا ہے جو پنجاب کے جاہل فقیروں کا قول ہے ے (۱) احمد احمد و چ فرق نہ کوئی ذرہ اک بھیت مروری دا دہی جو ستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا وہ مدینے میں مصطفے ہو کر ناظرین! اس مشہر کا نہ تعلیم پر کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے جو تو۔۔سکھائی ہے پہلے نبیوں سے بڑھ کر ہے۔چوتھا مسئلہ خود اپنے حق میں الہام بنایا یہ انما امرك اذا اروت شيئا ان تقول له كن فيكون (اصل حقیقہ اومی بشنا) " یعنی اے مرزا تیرا اختیار ہے جب کسی چیز کا تو ارادہ کرے تو اسے اتنا کہہ دے کہ موجود ہو جا پس وہ ہو جائے گی " اس الہام کی گویا تشریح دوسرے مقام پر یوں کی ہے۔اعطیت صفة الافتاء والاحياء من الرب الفعال (خطبہ الہامیہ