اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 544
544 گالی نده و سمجھنیا دو شاہ جی نے فرمایا : جو کچھ کہتے ہو مجھے سمجھا دو۔گالی سے انسان قائل نہیں ہوتا۔میں امیر نہیں تغیر ہوں۔میں صرف سچا ہی ہوں ، اللہ کا سپاہی ، رسول کا سپاہی۔اسلام کا سیاسی ، آزاد می کا سپاہی تمہارا سپاہی اور جب تم سمبا دو گے پھر مجھے تنہا چھوڑ دو۔تب میں سانوں اور میدان جنگ جانے سپاہی میرت به تهران میرا بہ بنا کام میرے ، قید ہونا پڑے یا تختہ دار پر ان کا نا ہو۔تم مجھے ہر اول دستہ پاؤگے۔گالی نہ دو تمہارے یا تو خوش نوائی کے ساتھ) میری تنگه بی نون کنشگر به امادست 1 ہے توں میری اور دیکھنی۔ایک شیر تھا جو گونج رہا تھا بھار میں ت چوک رنگ محل للمو