اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 40
40 جماعت اسلامی کا ہمیشہ طریق یہ رہا ہے کہ وہ چھپ کر وار کرتی ہے۔کیونکہ یہ عقیدہ کتاب اسلامی ریاست میں موجود ہے کہ اگر صالحین کے پاس طاقت ہو اور وہ مسلح ہوں تو ان کا فرض ہے کہ بزور شمشیر ملک میں انقلاب برپا کریں۔( اسلامی ریاست نمبر 10 صفحہ 41-42 ناشر مکتبہ جماعت اسلامی۔ذیلدار پارک۔اچھرہ۔لاہور ) تو فرید پراچہ جو آج کل بہت چہک رہے ہیں۔انہوں نے یہ اشتعال انگیز خبر دی اور ”مساوات 15 جون 1974 صفحہ 2 کالم 3 پر ہے۔عنوان دیکھیں۔اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو جہاں کوئی احمدی ملے گا قبل کر دیا جائے گا۔“ اور آج یہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کچھ کیا ہی نہیں۔ہم تو مصلحین ہیں۔مؤمنین ہیں اور عظیم الشان کام کرنے والے ہیں۔سی وہ ایک خاکہ تھا جو میں نے ان کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت قاضی محمد نذیر صاحب اور حضرت مولانا غلام باری سیف صاحب نے بھی اس کو منظور فرمایا۔اب جہاں تک تعلق ہے اس چیز کا کہ وہ شائع ہوئی یا نہیں ہوئی۔بیان تو حضور کا شائع ہوا لیکن حکومت اور علماء نے گٹھ جوڑ کر کے صمدانی عدالت رپورٹ کو سیل کر دیا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جو وہاں بیان دیا آپ بتائیں گے کہ وہ کیا تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔اس میں حضور نے جو بیان فرمایا اس میں موٹی بات یہ تھی کہ مجھے تو اس وقت پتا چلا جس وقت کہ اخباروں نے یہ خبر دی۔باقی کچھ اور سوالات کئے گئے مگر ان کی تفصیل اس وقت چونکہ مجھے متحضر نہیں۔بحیثیت مورخ کے مجھے اس میں قدم نہیں رکھنا چاہئے۔وہ بڑی تفصیل سے چھپا ہوا موجود ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔وہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔اور میں سامعین سے بھی کہتا ہوں۔بزرگوں سے بھی عرض کروں گا کہ وہ ضرور پڑھیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہو گا کہ خلیفہ وقت خدا کا شیر ہوتا ہے۔آگ لگی ہوئی ہے اور خدا کا شیر وہاں پر پہنچ کر حقائق کو بیان کر رہا تھا۔