اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 526
526 رکھا۔لیکن باقی سارا انگلستان خصوصاًلنڈن اس وقت اس کی زد میں تھا۔اور دوسری طرف جرمن کی سپاہ جو تھیں وہ بڑھتی چلی جارہی تھیں۔میں ان دنوں مدرسہ احمدیہ کا سٹوڈنٹ تھا اور ہمیں یہ خبریں پہنچ رہی تھیں کہ اب وہ وقت قریب آ گیا ہے کہ انگریزوں کو شکست ہو جائے گی اور برٹش امپائر کا خاتمہ ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے آپ اس زمانے کی تاریخ کو دیکھیں۔کانگریس نہ صرف یہ کہ قائد اعظم کی کسی بات کو خاطر میں نہیں لاتی تھی بلکہ انگریز گورنروں اور وائسرائے اور انگریز افسروں کو اس طرح ردی کی ٹوکری میں پھینکتی تھی گویا کہ یہ بھنگی ہیں۔ان کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھی۔اور وہ اس یقین سے لڑ رہے تھے کہ برٹش گورنمنٹ کا خاتمہ بالکل نزدیک آ گیا ہے۔یہ دلچسپ خبریں بھی ہمیں قادیان میں پہنچیں۔مجھے ابھی تک یاد ہے کہ بعض دوستوں نے سنایا کہ علماء حضرات ضلع گورداسپور میں خصوصاً قادیان کے ارد گرد، خطبے دے رہے ہیں کہ در اصل ہٹلر پوشیدہ مہدی موعود ہے مگر وہ اپنے مہدی ہونے کا اعلان اس وقت کرے گا جس وقت کہ وہ دتی کو فتح کر لے گا۔یعنی بالکل افغانستان کے ملا عمر کی طرح کی سوچیں اس وقت بھی دکھائی جا رہی تھیں۔یہ حالت تھی اس وقت۔اور یہ قطعی بات سمجھی جا رہی تھی کہ جرمنی غالب آئے گا اور برٹش ایمپائر (British Empire) ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے نابود ہو جائے گی۔اس زمانے میں حضرت مصلح موعودؓ نے 13 اپریل 1941ء کو مجلس مشاورت کے ممبران کے سامنے جو تقریر کی ، اس کا ایک حصہ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ جنگ کے دوران میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت سی رؤیا دکھائی ہیں اور میں انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعا میں مشغول رہتا ہوں۔اور خوابوں میں مجھے جو خواب نظر آئے ان میں میاں مظفر احمد صاحب اور حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب نظر آئے۔یہ ذکر کرنے کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ اس رویاء سے مجھے اتنی تسلی ضرور ہوئی کہ اس جنگ میں خدا تعالیٰ کا دخل ہے اور جس جنگ میں خدا تعالیٰ کا دخل ہو اس کا نتیجہ اسلام اور احمدیت کے لئے مضر نہیں ہوسکتا۔ابھی میں برابر دعا میں مشغول ہوں۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ بھی دعا کریں۔