اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 38
38 میں ہی جماعت اسلامی نے Grip کر لیا تھا۔یہاں پر آئے تو پھر ہر حرکت جو ہوئی، جوادار یے لکھے گئے ، آج تک لکھے جارہے ہیں، جماعت اسلامی کی روح اس کے اندر شامل ہے۔بہر کیف سب سے بڑھ کر پراپیگنڈہ میں حصہ ” نوائے وقت“ نے لیا اور آج تک یہی صورت ہے۔یہ پالیسی بدلی نہیں۔آپ اگر دیکھیں گے اخباروں کو پڑھیں گے اور اداریوں کو دیکھیں، سیٹنگ کو دیکھیں، ایجنسیوں کی خبروں کے اوپر جو نشان لگائے جاتے ہیں۔یہ ساری چیزیں ہیں جن کے پیچھے جماعت اسلامی بول رہی ہے۔تو اس وقت بھی سب سے زیادہ پراپیگنڈہ جماعت کے خلاف ” نوائے وقت“ نے کیا ہے۔نوائے وقت“ نے عنوان دیا:۔وو پانچ ہزار مسلح افراد کا حملہ نوائے وقت 30 مئی 1974 ، صفحہ 1 کالم (2-3) ربوہ ریلوے سٹیشن پر مسلح طلباء نے ملتان کے طلباء پر حملہ کر دیا۔ایک مشرق“ نے دیا۔پینتیس افراد زخمی 66 مشرق 30 مئی 1974 ء صفحہ 1 کالم 2-5،3) مشرق نے کچھ شرافت کا ثبوت دیا یعنی خبر سازی میں انہوں نے تھوڑا بہت شرافت کا نمونہ دکھایا ہے مگر خبر سازی میں شاہکار تو ” نوائے وقت ٹھہرا اور نوبل پرائز اگر جھوٹ پر ملنا چاہئے تو میں سمجھتا ہوں کہ اکیسویں صدی میں ”نوائے وقت“ کو ملنا چاہئے۔” مساوات“ نے لکھا کہ جلوس نکالا۔“ لائل پورٹرین پہنچی۔طلباء کا لاؤڈ سپیکر پر قبضہ ، ہنگامہ، شہر میں یہ پیپلز پارٹی کے آرگن نے شائع کیا۔( ” مساوات‘ 30 مئی 1974 ء صفحہ آخر ) اور نوائے وقت کی ایک اور خبر ہے۔اس کے بعد یکم جون کی کہ