اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 37
37 یہ نوائے وقت 30 مئی 1974 ء نے جلی عنوان کے ساتھ شائع کیا۔حمید نظامی تو اللہ کو پیارے ہو گئے جو کہ صف اول کے مسلم لیگی تھے ، جنہوں نے ہر موقع پر جماعت کی تائید کی۔انہیں پتا تھا کہ جماعت احمدیہ ہی ہے جس نے بحیثیت جماعت حضرت قائد اعظم کا ساتھ دیا تھا۔1953ء میں بھی انہوں نے جماعت کے حق میں اور ملاؤں کی سازش کے خلاف پر زُور بیان دیا ہے۔اس وقت کا پریس آپ دیکھ لیں ، ساری تفصیلات موجود ہیں۔حمید نظامی صاحب نے تو مودودی صاحب کو با قاعدہ چیلنج کیا تھا کہ آپ ہم پر مقدمہ چلائیں۔دراصل آپ کو اسلام سے کوئی غرض نہیں۔آپ کا مقصد اپنی حکومت کا قیام ہے۔( روزنامہ نوائے وقت لاہور 15 جولائی 1955 صفحہ 3 ) قائد اعظم کو چونکہ حکومت مل گئی اس لئے وہ بغض اور کینہ آج تک نہیں گیا اور اب غدار ہیں جنہوں نے کشمیر کے جہاد کو تہس نہس کرنے کے لئے سکھوں اور ہندوؤں سے سازش کر کے فتویٰ دیا کہ یہ جہاد نہیں ہے، یہ فساد ہے اور قرآن کے خلاف ہے۔میں پرانا ریکارڈ دیکھ رہا تھا۔چوہدری غلام عباس صاحب کا انٹرویو سول اینڈ ملٹری گزٹ میں چھپا ہوا موجود ہے کہ میں مودودی صاحب سے ملا تو کہتے ہیں کہ ہم نے فتویٰ ہی نہیں دیا۔جب 1953ء کی تحقیقاتی عدالت میں پیش کرنے کے لئے میں نے کوشش کی تو ترجمان القرآن جون 1948ء کا پرچہ جس میں کہ کشمیر کے متعلق وہ فتویٰ تھا کہ جب تک ہمارے معاہدات انڈیا کے ساتھ ہیں از روئے قرآن ہم کوئی مسلح کارروائی نہیں کر سکتے۔یہ کہیں بھی نہیں مل سکا۔حتی کہ پنجاب پبلک لائبریری لاہور مشہور ہے۔اس میں پرچہ موجود تھا۔عنوان یہ تھا کہ ”مسئلہ کشمیر ، عنوان میں یہ چیز رکھی گئی تھی مگر آگے جب دیکھا تو وہ صفحہ ہی غائب تھا۔مجاہدین جماعت اسلامی نے غائب کر دیا تھا۔آخر اللہ نے فضل کیا وہ ہمیں مل گیا وہ عدالت کے سامنے پیش کیا۔تو حمید نظامی نے چیلنج کیا کہ تم غدار ہو۔سول اینڈ ملٹری گزٹ وہ مجھے بعد میں ملا۔تو ایک تو وہ حمید نظامی کا زمانہ تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔بہت شیر دل انسان تھے۔جماعت سے بہت ہی محبت رکھنے والے، بہت ہی خیال رکھنے والے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ فقط یہی جماعت ہے، جس نے اپنے امام کی اطاعت میں سر بکف ہوکر دیوانہ وار جہاد پاکستان میں حصہ لیا ہے۔جب حمید نظامی صاحب کی وفات ہوئی تو مجید نظامی صاحب پڑھ رہے تھے۔ان کو شروع