اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 507
507 اس ٹیلی ویژن چینل کی قیمت پانچ لاکھ روپے فی گھنٹہ ہے۔اس طرح جماعت احمد یہ روزانہ ساٹھ لاکھ روپے ٹیلی ویژن والوں کو دے رہی ہے۔آج تک کسی نے نہیں سوچا کہ اس قدر خطیر رقم کہاں سے آرہی ہے۔کون دے رہا ہے۔“ دیکھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رعب پیدا کرنے کے لئے غیروں کی طرف سے کیا سامان ہوتے ہیں۔کہتے ہیں کہ اس طرح جماعت احمد یہ روزانہ ساٹھ لاکھ روپے ٹیلی ویژن کو دے رہی ہے۔آج تک کسی نے نہیں سوچا کہ اس قدر خطیر رقم کہاں سے آرہی ہے۔کون دے رہا ہے اور دینے والے کے مقاصد کیا ہیں۔احمدیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ فنڈ جماعت احمدیہ کے کارکن دیتے ہیں۔جن کے طفیل نہ صرف ٹیلی ویژن چینل بلکہ پوری دنیا کے ایک سو پچاس ممالک میں احمدیت کے تبلیغی سینٹر کام کر رہے ہیں۔احمدیوں کے یہ دعوے ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔جب تک ہم پاکستان میں احمدیوں کا سرکاری اثر و نفوذ ختم نہیں کرتے یہ سلسلہ پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں جاری رہے گا۔اس ضمن میں ہمارے ہاں دینی کرداروں اور جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ ہمیں احمدیت کے ابھرتے ہوئے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا یا کم کرنے کے لئے کیا کچھ کرنا ہے۔ہماری دینی جماعتیں اور جید علماء یہ تو کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو یہودیوں کا اثر ورسوخ حاصل ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اثر ورسوخ کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں نے کیا کردار ادا کیا ہے۔آپ ہی اپنی اداؤں ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی گزشتہ اشاعت میں ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت حکومتی ایوانوں تک میں احمدیت کو رسائی حاصل ہے اور اس رسائی کی اصل حقیقت جاننے کے لئے ہمیں تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔مستقبل ماضی اور