اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 500 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 500

500 ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ تو ایک محض مفتریانہ پروپیگنڈہ ہے لیکن آپ کیا یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ یہ جو محافظین ختم نبوت ہیں، ان کا رُخ کردار کیا ہے۔اس سعی کے حوالے سے؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب: ان احراری ملاؤں نے جو دنیا میں یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ ہمیں یکا یک ختم نبوت کے تحفظ کا خیال آیا، یہ وہ لوگ تھے جو ساری عمر پنڈت نہرو اور گاندھی اور پٹیل اور دوسرے اسلام دشمن لیڈروں کے چرنوں میں رہے۔دنیا حیران ہے کہ ان دشمنان اسلام کے قدموں میں رہنے والے شخص کہاں سے عاشق ختم نبوت ہو سکتے ہیں۔بہر حال یہ سیاسی قلابازی تھی اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ ایشیا کا دماغ مسلم دماغ خاص طور پر، وہ مذہب کے نام پر ہی مشتعل ہو سکتا ہے اور اسی اشتعال کے نتیجہ میں ہم پاکستان کو تباہ کر سکتے ہیں۔ان لوگوں نے وہی راہ اختیار کی جو کہ سیاست میں ہمیشہ ہی دنیا کی تمام پارٹیاں استعمال کرتی ہیں اور اس میں مسلم غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں۔جتنی بھی کوئی سیاسی پارٹی ہو گی اتنی ہی زیادہ فریب کاری کا نمونہ وہ دکھائے گی۔یہ بالکل ویسا ہی طریقہ کا رہے جیسا کہ چوروں کا گروہ جب کہیں چوری کی واردات کے لئے پہنچتا ہے تو وہ اپنے میں سے بعض لوگوں کی ڈیوٹی تو سیندھ لگانے کے لئے لگاتے ہیں۔بعض اندر پھلانگنے کے لئے ہوتے ہیں۔بعض چور ہیں جو بازار میں کھڑے ہوتے ہیں اور آواز دینے کے لئے کہ دیکھو چور ہے اور فلاں چور ہے تاکہ لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہو جائے اور چوری کرنے میں آسانی ہو جائے۔بعینہ یہی صورت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں۔ابوالکلام آزاد صاحب کے ذریعہ سے کانگریس نے 1929ء کے اجلاس راوی پر اس مجلس احرار کو قائم کیا اور ابوالکلام صاحب آزاد نے اپنی وصیت میں جو "India Wins Freedom" میں چھپ چکی ہے اور میں حوالہ دے چکا ہوں۔یہ کہا کہ مجھے پاکستان سے شدید نفرت ہے۔پاکستان کا نام ہی اسلام کے خلاف ہے۔میری تمام ہمدردیاں یہودیوں کے ساتھ ہیں۔تو اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جس پارٹی کا لیڈر پاکستان کے نام کا ہی دشمن ہو اور