اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 494
494 دی گئی اور چند مزید ایسی تبدیلیاں لائی گئیں جو آج کے زمانے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ضرب خفیف اور ضرب شدید کے قانون میں بھی آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول پر تبدیلیاں ہوئیں۔جن کے تحت سزا دیتے وقت جوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔خیر یہ تو مختصر سا خاکہ اس اسلامائزیشن' کا تھا جو جنرل ضیاء الحق نے ملک میں نافذ کی مگر ہم پر ان اصلاحات کا نہ تو کوئی روحانی اثر ہوا اور نہ اخلاقی بلکہ سنگین جرائم میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔پاکستان میں خصوصی طور پر عورتوں سے متعلق کئی نئے قسم کے جرائم مشاہدے میں آئے جن کی پہلے کوئی مثال موجود نہ تھی۔مثلاً پنجاب میں مردہ خواتین کو قبروں سے نکال کر ان کے ساتھ زیادتی کرنے کے دو واقعات پیش آئے۔اور شرعی عدالت کے لئے یہ طے کرنا مشکل تھا کہ جرم زنا بنتا ہے یا نہیں۔پھر مخالف پارٹی کے مردوں نے کسی خاندان کی خواتین کو ( بوڑھی عورتوں، جوان اور چھوٹی عمر کی بچیوں سمیت) الف ننگا کر کے انہیں بازار میں نچوایا اور مردوں نے مل کر ان کے اردگرد بھنگڑا ڈالا۔نیز حدود آرڈینینس کا بالخصوص عورتوں کے معاملے میں غلط استعمال کیا گیا۔بطور حجج لاہور ، بہاولپور، ملتان اور راولپنڈی کے بنچوں پر میرے سامنے مستغیث پارٹی اور پولیس کی اس دیدہ دانستہ دھاندلی کے بعض ایسے کیس آئے کہ میں حیران رہ گیا۔“ اپنا گریبان چاک سنگ میل پبلیکیشنز لاہور صفحہ 172-173) چند مثالیں بھی دی ہیں لیکن میں پیش نہیں کرتا۔یہ مثالیں بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔د پس یہ نام نہاد اسلامی اصلاحات دراصل کتاب قوانین پر سرخی پاؤڈر ( کاسمیٹک ) لگانے کے مترادف تھیں۔ان اسلامی قوانین کے دانت تو تھے مگر نمائشی۔وہ کاٹ سکنے کی اہلیت نہ رکھتے تھے۔نیز اصلاحات کا زیادہ زور سزاؤں پر تھا یعنی منفی پہلو پر۔”مثبت پہلو پر