اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 486
486 جیسا کہ لوط کے زمانے میں ہوا۔اور پھر فرمایا إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ اتِيْكَ بَغْتَةً یعنی میں پوشیدہ طور پر فوجوں کے ساتھ آؤں گا اس دن کی کسی کو بھی خبر نہیں ہوگی جیسا کہ لوڈ کی بستی جب تک زیروز بر نہیں کی گئی کسی کو خبر نہ تھی۔اور سب کھاتے پیتے اور عیش کرتے تھے کہ نا گہانی طور پر زمین الٹائی گئی۔پس خدا فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ گناہ حد سے بڑھ گیا اور انسان حد سے زیادہ دنیا سے پیار کر رہے ہیں اور خدا کی راہ تحقیر کی نظر سے دیکھی جاتی ہے اور پھر فرمایا زندگیوں کا خاتمہ اور پھر مجھے مخاطب کر کے فرما یا قَالَ رَبُّكَ إِنَّهُ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيْكَ رَحْمَةً مِّنَّا۔وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا ( یہ خاص توجہ سے سننے کے لائق ہیں۔ناقل ) یعنی تیرا رب کہتا ہے کہ ایک امر آسمان سے اترے گا جس سے تو خوش ہو جائے گا۔یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور یہ فیصلہ شدہ بات ہے جو ابتدا سے مقدر تھی اور ضرور ہے کہ آسمان اس امر کے نازل کرنے سے رُکا ر ہے۔جب تک کہ یہ پیشگوئی قوموں میں شائع ہو جائے۔“ (روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 314-315) یہ پیشگوئی حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے زمانے میں اس وقت پوری ہوئی جبکہ ساری دنیا میں تحریک الوصیت کا ایک عظیم الشان جذ بہ پیدا ہوا اور مخلصین احمدیت نے امریکہ سے لے کر یورپ اور افریقہ اور آسٹریلیا تک ”لبیک یا امیر المومنین کہتے ہوئے نظام امیرالم الوصیت سے وابستگی کا اعلان کیا اور ساتھ ہی الوصیت مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی۔عربی میں، انگریزی میں ، دوسری زبانوں میں۔تو فرمایا یہ احمدیت کی صداقت کے لئے خدا نے نشان پہلے سے رکھا ہوا تھا۔مگر خدا اس وقت تک اس نشان کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔جب تک کہ ساری دنیا میں الوصیت“ شائع نہ کی جائے۔مختلف زبانوں کے ذریعہ سے دنیا کی مختلف قوموں کو اس سے متوجہ نہ کیا جا سکے۔یہ خدا کا عظیم الشان نشان ہے جو خلافت خامسہ کے زمانے میں پوری آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔جزاکم اللہ۔مولانا صاحب ! یہ بتائیے کہ عرب