اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 485 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 485

485 اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار سن 2005ء کا جو زلزلہ آیا تھا اور جس کے اثرات اب تک دکھائی دے رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب الوصیت میں اس کے متعلق اتنی تفصیلی علامات بیان کی گئی ہیں کہ سوائے عرش کے خدا کے کوئی علم غیب دنیا میں ظاہر نہیں کر سکتا۔اور یہ تو ایک واضح حقیقت ہے کہ دنیا خواہ مریخ پر چلی جائے ، سائنسدان خواہ کتنی رفعتوں پر پہنچ جائیں، یہ تو ہے کہ ایسے زلزلہ پیما آلے تیار ہو گئے کہ کیا کیفیت ہے زلزلے کی ، مگر یہ کہ زلزلہ آ رہا ہے یا نہیں آ رہا ؟ اس بارے میں کوئی بھی انسان نہیں جان سکتا۔نہ کوئی اس بارے میں کوئی آلہ ایجاد کیا گیا ہے۔مگر آپ دیکھیں یہ زلزلہ 8 اکتوبر 2005ء کو بر پا ہوا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب الوصیت“ چوبیس دسمبر 1905ء کو شائع ہوئی۔ایک سو سال پہلے کی یہ کتاب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ پہلے ایڈیشن کے صفحہ 14 اور 15 کے الفاظ ہیں۔ایک ایک لفظ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو خدا کے حکم سے اپنے قلم سے لکھا ہے۔وہ اس شان کے ساتھ پورا ہوا ہے کہ کوئی انسان اس کا انکار نہیں کرسکتا۔یہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے الفاظ ہیں اور بہت توجہ سے سننے کے لائق ہیں۔میں ناظرین سے یہ عرض کروں گا کہ خدا کے مسیح کے ایک صدی پہلے کے ان الفاظ کو غور سے سنیں اور پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کا جلالی نشان 2005ء میں کس شان کے ساتھ پورا ہوا ہے۔حضور کے الفاظ یہ ہیں۔اور خدا نے فرمایا زَلْزَلَةُ السَّاعَةِ یعنی وہ زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگا۔اور پھر فرمایا لَكَ نُرِى آيَاتٍ وَّ نَهْدِمُ مَا يَعْمَرُونَ یعنی تیرے لئے ہم نشان دکھلا ئیں گے اور جو عمارتیں بناتے جائیں گے ، ہم ان کو گراتے جائیں گے۔اور پھر فرمایا بھونچال آیا اور شدت سے آیا۔زمین تہ و بالا کر دی یعنی ایک سخت زلزلہ آئے گا اور زمین کو یعنی زمین کے بعض حصوں کو زیروزبر کر دے گا